33

علماء نے اعزازیہ کے نام پر سیاسی رشوت کو مسترد کردیا

پشاور(آن لائن)پی کے 75-کے علماء نے اعزازیہ کے نام پر سیاسی رشوت کو مسترد کردیا،دیوبند کے علماء دین اسلام کی خدمت کو اپنے لئے اعزاز سمجھتے ہیں اور بغیر کسی دُنیاوی لالچ کے اُمت کی رہنمائی کرتے ہیں،جمعیت علماء اسلام کے مرکزی رہنما اور قائد ملت اسلامیہ حضرت مولانا فضل الرحمن نے حکومت کی جانب سے علماءکو پیش کیا جانے والا اعزازیہ لینے سے منع کیا ہے،حکومت کبھی سُرخرو نہیں ہوگی،ان خیالات کا اظہار ارباب محمد فاروق جان نے جمعیت علماء اسلا م کے زیر اہتمام علماء کرام کے اجلاس سے خطاب کے دوران کیا۔ اس سلسلے میں ایک اجلاس

کا انعقاد کیا گیا جس میں مختلف علماء کرام نے کثیر تعداد میں شرکت کی اور کہا کہ اعزازیہ کے نام تمام آئمہ کرام اور علماء کرام کے ساتھ دھوکہ ہو رہا ہے،دورانِ اجلاس ارباب محمد فاروق جان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اعلان کیا تھا کہ علمائے کرام کو ماہانہ 10ہزار روپے دیئے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ یہ10ہزار روپے ماہانہ کوئی حیثیت نہیں رکھتے جتنے اخراجات عام لوگوں کے ہوتے ہیں اتنے ہی علماء کرام کے بھی ہوتے ہیں،حکومت نے پہلے بھی اس طرح کے اعلان کئے تھے تاہم اُن پر بھی کوئی عملی کام نہیں ہوا،اس موقع پر پی کے 75-کے امیر مولانا سہیل نے کہا کہ جب بھی اپوزیشن کی جانب سے کوئی تحریک شروع ہوتی ہے تو حکومت ہمدردیاں حاصل کرنے کیلئے اس طرح کا اعلان کردیتی ہے،لیکن حکومت اس بات سے بے خبر ہے کہ صرف اعلانات سے حکومتیں نہیں چلتیں،ہم اس اعزازیے کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ دو سال قبل بھی حکومت نے علمائے کرام کیلئے اعزازیئے کا اعلان کیا تو اُس وقت بھی جمعیت علماء اسلامنے اس کو مسترد کیا تھا اور علمائے کرام کی تفصیلات جمع کی گئیں تھیں،آج بھی حکومت یونین کونسلوں کے سیکرٹریز اور پٹواریوں کے زریعے علماء کا ریکارڈ جمع کررہے ہیں پی کے 75- کے امیرمولانا سہیل درویش نے واضح کیا کہ ہمیں ضلع پشاور کے امیر مولانا مسکین شاہ کی ہدایات ہیں کہ تمام علماء کرام کے پیچھے جمعیت علماء اسلام ضلع پشاور مظبوطی کے ساتھ کھڑا ہے اور آئندہ کسی بھی انتظامیہ کے فرد نے علماء کرامکا ڈیٹا اکھٹا کرنے کی کوشش کی تو ان کے خلاف سخت موقف اختیار کیا جائے گا،ارباب فاروق جان نے کہا ہے کہ حکومت نے خیبر پختونخواہ کے 22ہزار آئمہ کرام کیلئے ماہانہ 10ہزار روپے اعزازیہ دینے کی منظوری دی ہے،حکومت علماء کرام سے مذاق بند کردیں اور علماء کرام کی توہین نہ کریں۔دیوبند کے علماء کی قربانیوں کو چند ٹکوں سے خریدنے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے،حکومت کبھی سُرخرو نہیں ہوگی۔



اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں