32

کابینہ اجلاس میں ایسا کیا ہوا کہ وزیراعظم نے وزیرکی بریفنگ اٹھاکرباہر پھینک دی؟رئوف کلاسرا کا حیران کن انکشاف

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )نجی ٹی وی پروگرام میں سینئر تجزیہ کار رئوف کلاسرا نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی جب حکومت بنی تو وزیراعظم عمران خان نے پاکستان کی اہم منسٹری آئی ٹی ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کے حوالے کی تھی ۔ ڈاکٹر خالد مقبول  آئی کے وزیر بھی بنا دیے گئے اور ٹاسک فورس کے چیئرمین بھی بنا دیے گئے ۔ ان کا کہنا تھا کہ  بتایا گیاکہآئی ٹی میں بڑے قابل لوگ ڈال دیےگئے ہیں لیکن وزیراعظم عمران خان کو 2سال بعد پتہ چلا کہ یہاں پر تو ہم نے ایک ٹاسک فورس بنائی تھی انہیں کہا گیا

کہ جناب تشریف لے آئیں ہمیں بریفننگ دیں گےکہ آپ لوگوں نے اب تک کیا کیا ہے ، وزیراعظم عمران خان سمیت تمام وزیروں بہت مایوسی ہوئی ہے ۔ پھر سید الامین اور شعیب صدیقی صاحب آگئے ، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ بڑی پڑھی لکھی کلاس ہے ، میں معذرت کے ساتھ کہنا چاہوں گاکہ جنہیں پڑھی لکھی کلاس کہا جاتا ہے ، ان کے ذمے جب لگایا گیا آپ یہ15 کام کر کے دیں۔ سینئر صحافی کا کہنا تھا کہ جب انہوں نے کیبنٹ میں بریفنگ ختم ہوئی تو ان کے ذمےجو 15کام لگے ہوئے تھے ،دو سالوں ان بیس سے پچیس لوگوں سے 15سفارشات تیار نہیں ہو سکیں ۔ وہاں موجود فواد چودھری کاکہنا تھا کہ آپ یہاں آئی سیکٹر کو رو رہے ہیں یہاں ملک کو چلانا تھا کہ فری لانسنگ کروانا تھا ، ای گورننس کروانی تھی۔ بڑے بڑے ایکسپرٹ اکٹھے کیے تھے ان کے ذریعے ہم نے آئی ٹی ایکسپورٹ بڑھانی تھی ۔ جب بریفنگ ختم ہوئی تو وزیراعظم عمران خان نےسید الامین اور شعیب صدیقی سے اڑھائی سال بعد پوچھا کہ ان 15کاموں میں کتنے گول آپ نے اچیو کر لیے ہیں ، انہوں نے جواب دیا کہ سر ابھی تک ایک کام کیا ہے ۔جس کے جواب میں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ میں ایک ہزار ایک تقریریں کر چکا ہوں ، قوم کو آئی ٹی ایکسپورٹ بڑھانے کا کہہ چکا ہوں اور آپ کہہ رہے ہیں کہ ان پندرہ کاموں میں صرف ایک کام آپ نے کیا ہے ۔ رئوف کلاسرا کا کہنا تھا کہ میں معاورتاً کہہ رہا ہوں کہ وزیراعظم نے یہ بریفننگ اٹھاکردور پھینک دی؟



کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں