38

مریم نواز حکومت سے ”نکی جئی ہاں” چاہتی ہیں،سرجری چھوٹی ہو یا بڑی، عمران خان NRO نہیں دے گا

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک/این این آئی)شہباز گل کا کہنا ہے کہ مریم نواز حکومت سے ”نکی جئی ہاں” چاہتی ہیں۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی نے کہا ہے کہ مریم صاحبہ نے حکومت کونئی درخواست دی کہ انہیں ’چھوٹی سی ‘سرجری کرانی ہے جو پاکستان میں نہیں ہوسکتی ،انہوں نے کہا کہ سرجری کی بات کر کے مریم حکومت سے”نکی جئی ہاں” چاہتی ہیں-ان کا کہنا تھا کہ پہلے بھی کہا ہے اب پھر کہہ رہا ہوں ، سرجری چھوٹی ہو یا پھر بڑی ، عمر خان این آر او نہیں دے گا ۔

دوسری طرف مریم نواز شریف نے گزشتہ رو ز کہا ہے کہ آپ نے کروڑ پتی اور ارب پتی لوگوں کو ٹکٹ دیے، اس کا کیا مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں نے جماعت کے لیے کوئی جدوجہد نہیں کی انہیں کہا جا رہا ہے کہ اپنے پیسوں سے ٹکٹ خریدو۔ ہماری کوشش ہے کہ سنیٹ میں اچھے اور سیاسی لوگ آئیں، وہ لوگ آئیں جن کی سیاسی جدوجہد ہے، مجھے فخر ہے کہ مسلم لیگ(ن) میں سب کارکنوں کو ٹکٹ ملے ہیں اور ایسے لوگوں کو ٹکت ملے ہیں جو کروڑ پتی یا ارب پتی نہیں بلکہ سادہ سے کارکن اور مڈل کلاس سے تعلق رکھتے ہیں مسلم لیگ(ن) نے عوام کی صحیح نمائندگی کا حق ادا کیا اور نوز شریف نے کسی ایسے ارب پتی شخص کو ٹکٹ نہیں دیا جو خرید و فروخت کا ماہر ہو، اصل تبدیلی یہ ہے۔جب ان سے سوال کیا گیا کہ آصف علی زرداری نے سینیٹ الیکشن کے بعد تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کے حوالے سے نواز شریف کو راضی کر لیا ہے تو مریم نواز نے جواب دیا کہ میں جو حالات دیکھ رہی ہوں، یہ نہ ہو کہ سینیٹ الیکشن کے دوران ہی عدم اعتماد ہو جائے پی ڈی ایم کو توڑنے کے خواب دیکھنے والے خود بہت جلد ٹوٹیں گے اور ٹوٹتے ہوئے نظر آ رہے ہیں، یہ بات کافی نہیں ہے کہ صبح ٹکٹ دیتے ہیں اور شام میں واپس لے لیتے ہیں، اگلے دن پھر اپنی ہی جماعت کی جانب سے ایک عدم اعتماد آ جاتی ہے، اپوزیشن کم بول رہی ہے اور ان کی جماعت زیادہ بول رہی ہے۔مسلم لیگ(ن) کی رہنما نے کہا کہ میرا صحت کا مسئلہ ہے جس کی وجہ سے میری ایک سرجری ہونی ہے جو پاکستان میں نہیں ہو سکتی لیکن میں اس حکومت سے بالکل نہیں کہوں گی کہ میرا نام ای سی ایل سے نکالے، مجھے اس ملک سے کہیں نہیں جانا، میرا جینا مرنا اس ملک کے ساتھ ہے، مریم باہر نہیں جائے گی، آپ کو جانا پڑے گا۔انہوں نے ایک مرتبہ پھر اپنے سابقہ مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ بیک ڈور رابطوں کی ضرورت ان کو ہے جو اس وقت مشکل میں ہیں، پی ڈی ایم یا مسلم لیگ(ن) کو بیک ڈور رابطوں کی ضرورت نہیں ہے۔



اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں