40

ن لیگ کے جلسے میں آنے والی ریلی میں لایا گیا شیر بھی سہم گیا

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک /این این آئی )وزيرآباد ميں پیر کو ہونیوالے ن ليگ کے جلسے میں آنیوالی ایک ریلی میں شیر بھی لایا گیا۔ کارکنان نے شیر کو ایک گاڑی کی چھت پر بٹھایا ہوا تھا تاہم ہجوم کی موجودگی میں جنگل کا بادشاہ کچھ خوفزدہ سا لگ رہا تھا۔ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لیگی کارکنان اسے اپنے کندھوں پر بٹھا رہے ہیں جبکہ کچھ لیگی خاتون رہنما بھی شیر کو دلاسے دے کراس کی ہمت بندھانے میں مصروف ہیں ۔ دوسری جانب مسلم لیگ(ن)کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ جو حالات نظرآرہے ہیں یہ

نہ ہو کہ سینیٹ الیکشن کے دوران ہی کوئی تبدیلی آجائے ،حکمران جماعت میں ٹکٹوں کی تقسیم پر ہر صوبے سے لوگ کھڑے ہو گئے ہیں اور کیا 22سالہ جدوجہد میں ایک بھی ایسا انسان نہیں ملا جس کو آپ سینیٹ کا ٹکٹ دیتے،بیک ڈور رابطوں کی ضرورت ان کو ہے جو اس وقت مشکل میں ہیں، پی ڈی ایم یا مسلم لیگ(ن)کو بیک ڈور رابطوں کی ضرورت نہیں ہے،پی ڈی ایم کو توڑنے کے خواب دیکھنے والے خود بہت جلد ٹوٹیں گے اور ٹوٹتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔وزیر آباد روانگی سے قبل جاتی امراء میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مریم نوا ز نے کہاکہ یوسف رضا گیلانی پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے متفقہ امیدوار ہیں اور پی ڈی ایم نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ وہ اپنے متفقہ امیدوار لائیں گے اور ایک دوسرے کو سپورٹ کریں گے۔انہوںنے کہاکہ اصل بات یہ ہے کہ عوام پر جو لوگ مسلط کیے جارہے ہیں، ہمیں عوام کا نمائندہ ہونے کی حیثیت سے ان کا راستہ روکنا ہے، مہنگائی سے مارے عوام میں اضطراب اور بے چینی ہے۔مریم نواز نے کہا کہ حکمران جماعت میں ٹکٹوں کی تقسیم پر ہر صوبے سے لوگ کھڑے ہو گئے ہیں اور جس طرح سے پیراشوٹ سے لوگوں نے لینڈ کیا ہے، کیا 22سالہ جدوجہد میں ایک بھی ایسا انسان نہیں ملا جو آپ کے ساتھ جدوجہد کررہا ہے اور آپ اس کو سینیٹ کا ٹکٹ دیتے۔انہوں نے کہا کہ آپ نے کروڑ پتی اور ارب پتی لوگوں کو ٹکٹ دیے، اس کا کیا مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں نے جماعت کے لیے کوئی جدوجہد نہیں کی انہیں کہا جا رہا ہے کہ اپنے پیسوں سے ٹکٹ خریدو۔انہوںنے کہاکہ ہماری کوشش ہے کہ سینیٹ میں اچھے اور سیاسی لوگ آئیں، وہ لوگ آئیں جن کی سیاسی جدوجہد ہے، مجھے فخر ہے کہ مسلم لیگ(ن)میں سب کارکنوں کو ٹکٹ ملے ہیں اور ایسے لوگوں کوٹکت ملے ہیں جو کروڑ پتی یا ارب پتی نہیں بلکہ سادہ سے کارکن اور مڈل کلاس سے تعلق رکھتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ مسلم لیگ(ن)نے عوام کی صحیح نمائندگی کا حق ادا کیا اور نوز شریف نے کسی ایسے ارب پتی شخص کو ٹکٹ نہیں دیا جو خرید و فروخت کا ماہر ہو، اصل تبدیلی یہ ہے۔جب ان سے سوال کیا گیا کہ آصف علی زرداری نے سینیٹ الیکشن کے بعد تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کے حوالے سےنواز شریف کو راضی کر لیا ہے تو مریم نواز نے جواب دیا کہ میں جو حالات دیکھ رہی ہوں، یہ نہ ہو کہ سینیٹ الیکشن کے دوران ہی عدم اعتماد ہو جائے۔انہوںنے کہاکہ پی ڈی ایم کو توڑنے کے خواب دیکھنے والے خود بہت جلد ٹوٹیں گے اور ٹوٹتے ہوئے نظر آ رہے ہیں، یہ بات کافی نہیں ہے کہ صبح ٹکٹ دیتے ہیں اور شام میں واپس لے لیتے ہیں، اگلے دن پھر اپنی ہی جماعت کی جانب سے ایک عدم اعتماد آ جاتی ہے، اپوزیشن کم بول رہی ہے اور ان کی جماعت زیادہ بول رہی ہے۔انہوںنے کہاکہ میرا صحت کامسئلہ ہے جس کی وجہ سے میری ایک سرجری ہونی ہے لیکن میں اس حکومت سے بالکل نہیں کہوں گی کہ میرا نام ای سی ایل سے نکالے، مجھے اس ملک سے کہیں نہیں جانا، میرا جینا مرنا اس ملک کے ساتھ ہے، مریم باہر نہیں جائے گی، آپ کو جانا پڑے گا۔انہوں نے ایک مرتبہ پھر اپنے سابقہ موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ بیک ڈور رابطوں کی ضرورت ان کو ہے جو اس وقت مشکل میں ہیں، پی ڈی ایم یا مسلم لیگ(ن)کو بیک ڈور رابطوں کی ضرورت نہیں ہے۔ایک سوال کے جواب میں مریم نواز نےکہا کہ 2018 کے سینیٹ انتخابات میں یہ ایک پیج پر تھے، اب ایک پیج والوں نے بھی یہ کہنا شروع کردیا ہے کہ آپ نے ہمیں اتنا بے عزت کرا دیا ہے کہ اپنے معاملات اب آپ خود ہی سنبھالیں، اب اپنی کارکردگی بہتر کریں ورنہ ہمارے ادارے کے اندر سے بھی یہ آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ آپ لوگوں نے کسی ایسے انسان کو کیوں سپورٹ کیا جس نے ملک کا یہ حال کردیا ہے۔انہوںنے کہاکہ جواب تو سلیکٹرز بھی مانگ رہے ہوں، کہہ رہے ہوں گے کہ تمہاری کارکردگی نے ہمیں بھی شرمندہ کردیا ہے، جب اس طرح کے حالات ہو جائیں تو الیکشن چوری کرنا ناممکن نہیں تو کم از کم مشکل ضرور ہو جاتا ہے۔ انہوںنے کہاکہ گھٹیا اور دھمکیوں والیسیاست نہیں چل سکتی ،گوجرانوالہ مسلم لیگ (ن) کا گڑھ ہے اور رہے گا ْ۔پی ڈی ایم نہ ٹوٹنے کا کریڈت عوام کو دوں گی ،پی ڈی ایم عوام کی زبان ہے۔ پی ڈی ایم کو عوام کے لئے نیا میثاق دینا چاہیے ۔انہوںنے کہاکہ شیخ رشید کی آنسو گیس کی ٹیسٹنگ والی بات پر حیرانی ہے ،کیا کل یہ ایٹم بم کے بارے میں بھی ایسا کہہ دینگے ۔ انہوںنے کہاکہ ہمارے ایم پی ایز کو کالز کی گئیں، ڈرایا دھمکایا گیا لیکن وہ نہیں ٹوٹے ،ڈسکہ جیسے چھوٹے شہر میں بھرپور انتخابی مہم چلائی ،اگر آپ نے وہاں کوئی ایسی ویسی حرکت کیتو یہ عوام سے چھپا نہیں رہے گا ۔ انہوںنے کہاکہ گلگت بلتستان میں ہمارے 7 نمائندوں کو توڑا گیا لیکن وہ سب کے سب ہار گئے ،عوام لوٹوں کو منتخب نہیں کرتی ،ضمنی انتخابات والے حلقوں کی انتظامیہ کو پیغام دینا چاہتی ہوں کہ آپ اس ملک کے خادم ہیں، اس لئے آپ کسی خوف، دھمکی یا لالچ میں آ کر پی ٹی آئی کے لئے کام کیا تو عوام آپ کا بھرپور محاسبہ کرے گی ۔



کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں