37

حملے کے دوران مجھے چیف جسٹس آف پاکستان کا فون آیا کہاگیا آپکو نکال کر آپریشن کیا جائیگالیکن منع کردیا کیونکہ۔۔۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے اہم انکشافات

اسلام آباد(این این آئی)اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا ہے کہ عدالت پر حملے میں ملوث وکلا کو مثالی سزا ملنی چاہیے۔پیر کو ہائی کورٹ میں وکلا حملے سے متعلق کیس کی سماعت کے دور ان اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکرٹری سہیل اکبر چوہدری عدالت کے سامنے پیش ہوئے اور جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کیاستدعا کی۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ آپ سب کو معلوم ہے کہ یہ سب کس نے کیا، اس کے لیے کسی کمیشن کی ضرورت نہیں، جنہوں نے ہائیکورٹ پر حملہ کیا ان کی

نشاندہی بار کرے تاکہ کسی بے قصور کو ہراساں نا کیا جا سکے، ہائی کورٹ پر حملہ کرنے والے سارے بار کے وکلا تھے آدھے سے زائد کو میں جانتا ہوں، جنہوں نے پانچ گھنٹے ججز کو یرغمال رکھا وہ اس انتہائی گھناؤنے جرم کے مرتکب ہوئے ہیں، یہ واقعہ بالکل غلط ہوا ہے اس میں ملوث لوگوں کو مثالی سزا ملنی چاہیے، چیف جسٹس آف پاکستان کا بھی فون آیا تھا، مجھے کہا گیا کہ کارروائی کے لیے تیار ہیں، لیکن میں نے چیف جسٹس پاکستان کو بھی بتایا کہ کوئی ایکشن لے کر ہائی کورٹ کو میدان جنگ نہیں بننے دوں گا، میں نے کہا کہ آپ آئیں اور آ کر بے شک مجھے مار دیں مگر ایکشن لے کر اس کو تماشہ نہیں بناؤں گا، ایک سو لوگوں کے ایکٹ کی وجہ سے بار کی عزت داؤ پر ہے، سب لوگ یونیفارم میں تھے بار کی بھی عزت اس میں ہے کہ انلوگوں کی نشاندہی کریں۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے وکلا کی میڈیا سے بدتمیزی پر بھی اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا والوں کو مارا گیا اور ان کی ویڈیوز بھی ڈیلیٹ کرائی گئیں، یہ رویہ بالکل برداشت نہیں کیا جائے گا، آپ کو معلوم ہے کہ وہ پلاننگ کے ساتھ آئے تھے اور باہرمیڈیا والوں کو مارا اور وڈیوز ڈیلیٹ کی ہیں، عدالت پہلے ہی ہدایات جاری کر چکی ہے کہ صرف ان وکلا کے خلاف کارروائی کریں جو واقعہ میں ملوث ہیں، جن وکلا پر صرف شبہ ہے ان کے خلاف کارروائی سے روک دیا ہے، چیف جسٹس کو پانچ گھنٹے تک حراست میں رکھا گیامگر میرا کوئی غصہ نہیں ہے، جے آئی ٹی نے رپورٹ دی ہے کہ وکلا اور بار ان سے تعاون نہیں کر رہے، اس وقت ذمہ داری بارز کی ہے، میں نے اپنی آنکھوں سے بار کے صدر اور آپ سیکرٹری کو بے بس دیکھا، اگر ایسا کسی سیاسی جماعت کے لوگوں نے کیا ہوتا تو ریاست انکے ساتھ کیا کرتی؟، مجھ کو جب یرغمال رکھا گیا تو میں اس کے لیے بھی تیار بھی تھا کہ زیادہ سے زیادہ کیا کریں گے مار دیں گے۔شیر افضل ایڈووکیٹ نے کہا کہ عدالت عالیہ کے ساتھ جو کچھ ہوا اس کا ہم سب کو دکھ ہے۔چیف جسٹس ہائیکورٹ اطہر من اللہ نے کہا کہ صرف میرا ایشونہیں، آٹھ دیگر ججز کو بھی محصور رکھا گیا، یہ ادارے کا معاملہ ہے۔ وکیل راجہ رضوان عباسی نے عدالت کے سامنے بیان دیا کہ ہم سب بہت شرمندہ ہیں۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ کوئی کمپرومائز نہیں ہو گا اگر مگر نہیں چلے گا قانون اپنا رستہ خود بنائے گا۔عدالت نے ہائی کورٹ بار کے سیکریٹری سہیل چوہدری کو ملوث ملزمان کی نشاندہی کی ہدایت کردی۔



اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں