29

2025 تک گردشی قرضہ 4936 ارب روپے ہو جائیگا مستقبل میں عفریت سے نمٹنے کیلئے حکومت کو تجاویز پیش

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)آئی پی پیز سے سمجھوتوں کے باوجود 2025 تک گردشی قرضہ 4936 ارب روپے تک بڑھ جائے گا ۔اس وقت گردشی قرضے کا حجم 2400 ارب روپے ہے ۔روزنامہ جنگ میں خالد مصطفی کی شائع خبر کے مطابق پاکستان کے توانائی کے شعبے میں گردشی قرضے کی وجوہات ، مضمرات اور تشخیص کی میکرو اکنامک ان سائٹس( ایم ای آئی )کے تحت ماہر اقتصادیات ثاقب شیرانی کی تیار کردہ رپورٹ کے مطابق 2007 سے 2020 تک بجلی کی قلت نے قومی پیداوار کو سالانہ 2.5 فیصد تک متاثر کیا ۔14 سال کے عرصے میں 82 ارب ڈالرز جی

ڈی پی مد میں نقصان ہوا ۔جبکہ توانائی کے بحران کی وجہ سے فی کس پاکستانیوں کو 43504 روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا ۔اسکے روزگار پر بھی مضر اثرات مرتب ہو ئے ۔ ایک تخمینے کے مطابق کم شرح نمو کی وجہ سے سالانہ 90 ہزار سے 16 لاکھ ملازمتیں متاثر ہوئیں ۔ثاقب شیرانی وزیر ااعظم کی اقتصادی ایڈوائزری کونسل کے بھی رکن اور وزارت خزانہ کے پرنسپل اکنامک ایڈوائزربھی رہے ۔ 8 فروری کو جاری اس رپورٹ کے مطابق 2025 تک گردشی قرضہ میں 3000 ارب روپے تک اضافہ ہو سکتا ہے ۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ توانائی کے شعبے میں گردشی قرضے کے حجم میں2016 سے دسمبر 2020 تک 689 ارب سے 2400 ارب روپے تک اضافہ ہو چکا تھا جو پہلے ہی ساڑھے تین گنا ( ڈھائی سو فیصد )اضافہ ہے ۔رپورٹ کے مطابق موجودہ حکومت کی کوششوں کے باوجود مسئلے کا حل وسط مدتی اقدامات میں مضمر نہیں ہے ،بجٹ کی مالی لاگت 2007 سے 2019 تک سالانہ جی ڈی پی کا 1.2 فیصد رہا۔ توانائی شعبے کی بجٹ سپورٹ 3202 ارب روپے رہی ۔ گردشی قرضے میںبھاری اضافے کی وجہ بجلی کی پیداوار میں2016 سے 13300 میگا واٹ کا اضافہ کے ساتھ روپے کی قدر میں تیزی سے کمی جس کے نتیجے میں آئی پی پیز کو ادائیگیوں میں106 فیصد اضافہ ہواجو 724 ارب سے بڑھ کر 1496 ارب روپ تک پہنچ گیا ۔اس کے علاوہ اس دورانبجلی کی پیداواری لاگت میں 76 فیصد اور ٹیرف میں 39 فیصد اضافہ ہوا ۔ریکوریز 94 سے 89 فیصد ہو گئیں ۔مالی گنجائش نہ ہو نے کے باعث حکومت گردشی قرضوںکی ادائیگی میں کامیاب نہ ہو سکی ، اس کے علاوہ بلند شرح سود واجب الادا گردشی قرضوں کی ادائیگی میں بھیمانع رہی ۔مستقبل میں گردشی قرضوں کے عفریت سے نمٹنے کے لئے مختصر سے درمیانی مدت اور طویل المعیاد حل کی سفارشات میں اقدامات تجویز کئے ۔مختصر المعیاد اقدامات میں نئے پیداواری صلاحیت کے منصوبوں کو موخر کر نا ، پرانے جینکوز کی ریٹائرمنٹ ، آئی پی پیز کےساتھ قیمتوں کا نئے سرے سے تعین ، توانائی کی فراہمی میں اقتصادی میرٹ آرڈر کو یقینی بنانا ،فعال پاور پلانٹس کو پورے لوڈ سے چلانا ، انہیں ترجیحی بنیادوں پر گیس کی فراہمی ، زیادہ آمدنی والے گروپوں کے لئے ٹیرف سبسڈی کا خاتمہ سفارشات میں شامل ہے ۔ ڈسکوز کی ری اسٹرکچرنگ،صوبوں کو بھی مسائل کے حل میں شریک کرنا ہو گا ۔ صوبے بھی بجلی کی تقسیم کا بوجھ اٹھائیں، رپورٹ میں طویل المعیاد حل کی مد میں موجودہ سنگل بائر ماڈل سے ہٹ کر مقابلہ جاتی ملٹی پلئیر مارکیٹ کی جانب آنا ہوگا ۔نیپرا کو آزاد ہو نا چاہئے اور اس میں ملٹی پلیئر مارکیٹ کو چلانے کی صلاحیت رکھتے ہوں ۔



اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں