39

وفاقی وزیربحری امور علی زیدی نے سندھ حکومت کے خلاف ایک اور محاذ کھول دیا

کراچی (این این آئی) وفاقی وزیربحری امور علی زیدی نے سندھ حکومت کے خلاف ایک اور محاذ کھول دیاہے اورکہاہے کہ سندھ حکومت اربن فاریسٹ پلانٹیشن مہم کے نام پروفاقی ادارے کی سرکاری زمین پرقبضہ کررہی ہے۔وفاقی وزیر پورٹس اینڈ شپنگ علی زیدی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پراپنے ایک پیغام میں سندھ حکومتکی اربن فاریسٹ پلانٹیشن مہم کو لینڈ گریبنگ قرار دے دیا ہے۔انہوں نے انکشاف کیا کہ سندھ حکومت اربن فاریسٹ پلانٹیشن کے نام پر کے پی ٹی کی زمین پر قبضہ کر رہی ہے جس کا نوٹس لیتے ہوئے کے پی ٹی نے سندھ حکومت کو

قانونی نوٹس بھجوادیا ہے۔دوسری جانب گورنر سندھ عمران اسماعیل کی زیر صدار ت گورنرہاس میں 50 جدید فائر ٹینڈرز اور 2 بازرز کی حوالگی کی سادہ و پروقار تقریب منعقد ہوئی ۔تقریب میں گورنرسندھ نے بلدیہ عظمی کراچی ، سندھ رینجرز،صنعتی ایسوسی ایشنز، سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ اور دیگر اداروں کو سربراہان کو جدید فائر ٹینڈرز کی چابیاں دیں۔ تقریب میں وفاقی وزراعلی زیدی ، اسد عمر ، اراکین قومی و صوبائی اسمبلی ،چین کے قونصل جنرل Li Vi Jian ،سابق میئر کراچی وسیم اختر ، KMCایڈمنسٹریٹر لئیق احمد، سول ایو ی ایشن کے ڈائریکٹر جنرل اور SIDCL کے چیئر مین خاقان مرتضی، سی پی ایل سی چیف زبیر حبیب سمیت اعلی حکام بھی شریک تھے ۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنرسندھ نے کہا کہ جدید فائر ٹینڈرز، وزیر اعظم عمران خان کا شہریوں کے لئے ایک تحفہ ہے یہ جدید ٹیکنالوجی پر مبنی فائر ٹینڈرز روایتی مقاصد سے بہت مختلف ہیں ان میں ہارڈ ویئر ، ہائی پریشر واٹر گن فائر آگ بجھانے کی قابلیت اور دیگر کارآمد خصوصیات ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان فائرٹینڈرز کی شمولیت سے پاکستان معاشی حب کراچی کے محکمہ فائر بریگیڈ کی فعالیت میں اضافہ ہوگا یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ وزیراعظم عمران خان بلا امتیاز خدمت پر یقین رکھتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی کا شکر ادا کرتاہوں کہ آج یہ منصوبہ مکمل ہو ا کیونکہ شہر کے مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے وفاق نے جو اقدامات اٹھائے وہانتہائی خوش آئند ہیں ، پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت یہ فائر ٹینڈرزدیئے جارہے ہیں یہ ایک منفرد معاہدہ ہے جس کے تحت انھیں ان فائر ٹینڈرز کی مرمت ، سامان کی حفاظت ، عملہ کی بروقت حاضری اور پانی کی فراہمی یقینی بنانے کی ذمہ داری دی گئی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہر کی صنعتی ایسوسی ایشنز کے ساتھ ساتھ سندھرینجرز کو بھی اس میں شامل کیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ کو بھی اس میں شامل کیا گیا ہے جو پہلے سے ہی فلاحی کاموں کو پوری ایمانداری سے انجام دے رہے ہیں ۔ گورنرسندھ نے کہا کہ SIDCL کے لئے 24 ارب روپے مختص کئے گئے ہیںاس میں گرین لائن منصوبہ کے لئے 11 ارب روپے لگائے جارہے ہیںجبکہ اسی ادارہ کے تحت7 مارچ کو 6فلائی اوورز اور نشتر روڈ کا افتتاح کردیاکیا گیا ہے اور منگھوپیر روڈ پر کام جاری ہے اسی طرح بلدیہ عظمی کراچی کے لئے بھی ایک ارب مختص کئے گئے اور یہ سار ا کچھ اس لئے ممکن ہوا کہ عمران خان ذاتی طورپر شہر میں دلچسپی رکھتے ہیں ۔ گورنرسندھ نے فائر چیف کو اسٹیج پر بلا کر زبردستخراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ فائر فائٹرز اپنی جانوں پر کھیل کر لوگوں کی جان اور املاک کو بچاتے ہیں یہی ہمارے اصل ہیروز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ آف دی آرٹ فائر ٹینڈرز آنے کے بعد یہ سلسلہ ابھی ختم نہیں ہوا ، ہم نے ایک کنٹینر موبائل اسپتال بھی تیار کیا ہے اور بہت جلد وزیراعظم عمران خان سے اجازت لے کر پورےصوبہ میں 20 کے قریب ایسے اسپتال قائم کئے جائیں گے ۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات اسد عمر نے کہا کہ 52 جدید فائر ٹینڈرز کی حوالگی پر گورنرسندھ کو مبارک باد پیش کرتاہوں شہر میں صنعت کاروں اور دیگر فلاحی اداروں کے ساتھ مل کر ان فائر ٹینڈرز کا استعمال ایک اچھا اشتراک ثابت ہوگا،پاکستان کا سب سے زیادہ ٹیکس دینے والے شہر میں محکمہ فائر بریگیڈ کی فعالیت انتہائی ضروری ہے تاہم ہم سب کو مل کر اپنی اپنی ذمہ داری پوری کرنا ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے دیگر ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت ہورہی ہے ، مارچ میں گرین لائن بسیں مل جائیں گی ، جولائی ، اگست میں اس شہر میں جدید ٹرانسپورٹ کانظامگرین لائن منصوبہ کام شروع کردے گا ، K-IVپر کام کے لئے اگلے ہفتہ خصوصی اجلاس بلایا گیا ہے تاکہ منصوبہ پر کام کی رفتار کو تیز کی جا سکے جبکہ ریلوے نظام کی فعالیت سے بھی شہر میں ایک خوشگوار تبدیلی محسوس کی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ وفاق نے اپنی آئینی ذمہ داری سے بڑھ کر اخلاقی ذمہ داری بھی پوریکررہا ہے اور یہ بات خوش آئند ہے کہ گورنرسندھ بھی صوبہ کی ترقی کے لئے بھرپور دلچسپی لیتے ہیں اور وزیراعظم بھی ذاتی طورپر خواہش رکھتے ہیں کہ کراچی کے عوام کی توقعات پر پورا اترا جائے ۔کراچی پورٹ اینڈ شپنگ کے وفاقی وزیر علی زیدی نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان اور گورنرسندھ کے شکر گذار ہیں کہ انہوں نےشہر کی ضرورت کو پورا کیا اس سے شہر کے مسائل حل کرنے میں مدد ملے گی ۔ بلدیہ عظمی کراچی کے ایڈمنسٹریٹر لئیق احمد نے کہا کہ یہ ایک تاریخی تقریب ہے جس میں اتنی بڑی تعداد میں فائر ٹینڈرز فراہم کئے جارہے ہیں ، اب ان فائر ٹینڈرز کی شمولیت سے حادثات پر قابو پانے میں مدد ملے گی ، ہم سب وفاقی حکومت کاشکریہ ادا کرتے ہیں جس نے کراچی کے مسائل پر ترجیحی بنیاد پر توجہ دی ۔ سابق میئر کراچی وسیم اخترنے کہا کہ یہ کراچی کے لئے اچھی خبر ہے صنعتی حب میں فعال محکمہ فائر انتہائی نا گزیر ہے وفاقی حکومت نے اس جانب توجہ دی خصوصا گورنرسندھ نے اپنی بے مثال کاوشوں سے اسے یقینی بنایا وفاق کے اس اقدام پر ان کاشکریہ ادا کرتے ہیں ۔سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ کے کے بانی مولانا بشیر فاروقی نے کہا کہ شہر کے لئے فائر ٹینڈرز کی کمی کو محسوس کیا جار ہا تھا وفاقی حکومت نے شہر کے وسیع تر مفاد میں ایک عملی اور شاندار اقدام اٹھایا جو کہ قابل تحسین ہے ہمیں بھی ان فائر ٹینڈرز کے لئے کام کرنے کے لئے کہا گیا ہے میں یقین دلاتاہوں کہکاروباری حضرات اس شہر کے لئے کام کرنے کے لئے تیار ہیں ۔تقریب میں بلدیہ عظمی کراچی کو 24فائر ٹینڈرز اور 2 بازرز، کورنگی ایسوسی ایشن آ ف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (KATI) ، نارتھ کراچی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری ، فیڈرل بی ایریا ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری ، سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری ، بن قاسم ایسوسیایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری ، سائٹ سپر ہائی وے ایسوسی ایشن آف انڈسٹری ، لانڈھی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری ، ایکسپورٹ پروسیسنگ زون اتھارٹی، بن قاسم انڈسٹری پارک ، سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ اور پاکستان رینجرز سندھ کو 2 ،2جدید فائر ٹینڈرز دجبکہ کورنگی کریک انڈسٹریل پارک اورکراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری(FPCCI)کو ایک ، ایک فائر ٹینڈر دیا گیا ۔

موضوعات:

قدرت کا اوبر سسٹم

’’میں گھر سے نکلنے لگا تو میں نے خلاف معمول اپنی جیبوں میں کرنسی نوٹ ٹھونسنا شروع کر دیے‘ جاوید صاحب آپ مجھے اچھی طرح جانتے ہیں میں جیب میں کیش نہیں رکھتا‘ کریڈٹ کارڈ لور ہوں‘ کارڈ دیتا ہوں اور آرام سے خریداری کر لیتا ہوں لیکن اس دن میرے دل میں نہ جانے کیا آیا ؟میں نے نوٹ ….مزید پڑھئے‎

’’میں گھر سے نکلنے لگا تو میں نے خلاف معمول اپنی جیبوں میں کرنسی نوٹ ٹھونسنا شروع کر دیے‘ جاوید صاحب آپ مجھے اچھی طرح جانتے ہیں میں جیب میں کیش نہیں رکھتا‘ کریڈٹ کارڈ لور ہوں‘ کارڈ دیتا ہوں اور آرام سے خریداری کر لیتا ہوں لیکن اس دن میرے دل میں نہ جانے کیا آیا ؟میں نے نوٹ ….مزید پڑھئے‎



اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں