36

عمران خان پر تنقید ، مریم نواز کی زبان پھسل گئی انڈے کتنے روپے کلو ، ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا

لاہور(این این آئی) گزشتہ روز ن لیگ کی نائب صدر مریم نواز شریف عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے یہ بھول گئیں کہ انڈے تو ل کے حساب سے ملتے ہیں یا درجن کے حساب سے ۔ انہوں نے انڈے فی کلو کتنے روپے ہیں ؟ کا سوال کرنا شروع کر دیا ۔ جبکہ پاس کھڑے احسن اقبال کے بتانے پر انہوں نے کہنا شروع کر دیا کہ نواز شریف کے دور حکومت میں انڈرے کس طرح درجن تھے اورآج کس طرح درجن فروخت ہو رہے ہیں ۔ تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ (ن) کی نائب صد رمریم نواز نے کہا ہے

کہ ایک نا اہل اور نالائق شخص کوبچا نے کے لئے انصاف کے پورے نظام اور ججز کی عزت کو جھونکا جارہا ہے اوریہ عدلیہ کی عزت اورکریڈیبلٹی کے لئے اچھی چیز نہیں ہے،ایسے شخص جسے گلی گلی محلے محلے القابات سے نوازاجارہا ہے ایسے شخص کوبچانے کے لئے عدلیہ اور عدل کاپورے نظام جھونکنا کوئی عقلمندی نہیں، ویڈیو بنانے،ریلیز کرنے، پیسے لینے اور دینے والے یہ خود ہیں تو یہ کس کو بیوقوف بنا رہے ہیں،جب تمہیں ٹائمنگ سوٹ کرے تو چیئرمین سینیٹ کا پورا الیکشن چوری کرلواور جب تمہارے اراکین اسمبلی بھاگ رہے ہوں تو تمہیں ٹائمنگ یاد آ گئی ہے، بندہ تابعدار کے ساتھ بیٹھ کر قانون سازی نہیں ہوسکتی، جہاں جہاں عوام کی طاقت ہوگی وہاں (ن)لیگ کو شکست دینا ناممکن ہے،ہمیں علم ہے جو پارٹی کے خلاف غداری یا بے وفائی نہیں کرنا چاہتا، رابطے اوپر ہوتے ہیں جن کو ضرورت ہو وہ بیک ڈور رابطے کرتے ہیں۔ جاتی امراء کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ ڈسکہ سے جو خبریں آرہی ہیں وہ بہت اچھی ہیں، وہاں شیر جیتے گا،وہاں پر او رجہاں جہاں ووٹ کی طاقت استعمال ہو گی،جہاں جہاں عوام کی طاقت ہو گی ووٹ ڈلے گا وہاں (ن) لیگ کوشکست دینا نا ممکن ہے اور(ن) لیگ جیتے گی، حکمرانوں کو جیت نظر آرہی ہے تبھی عطا اللہ تارڑ والا واقعہ ہوا،تبھی اس قسم کے ہتھکنڈے استعمال ہو رہے ہیں، ان کو سمجھ نہیں آرہی کہ سب کچھ کرنے اور ہر ہتھکنڈا استعمال کرنے کے باوجود ان کو شکست ہوئی ہے، ان اصلیت عوام کے سامنے کھل کر آگئی ہے،یہ ہتھکنڈے استعمال کریں لیکن جب عوام فیصلہ کریں گے تویہنا اہل،ناالائق اورجعلی سلیکٹڈ کے حکومت کے خلاف او ر (ن) لیگ کے حق میں ہوگا۔ انہوں نے جسٹس فائز عیسی کو وزیر اعظم سے متعلق کیسز سننے سے روکنے کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جو عمران خان کو بچانے کیلئے الفاظ استعمال ہوئےوہ سب نے سنے ہیں،نواز شریف بھی وزیر اعظم تھے،ہم انصافکے دو نظام کے خلاف آواز اٹھارہے ہیں،لوگ ریمارکس کے فرق،چہرے دیکھ رہے ہیں،فیصلے بھی دیکھ رہے ہیں وہ یہ دیکھ رہے ہیں ایک نا لائق اور نا اہل کوبچا نے کے لئے انصاف کے پور انظام عدلیہ اور ججز کی عزت کو جھونکا جارہا ہے، یہ بات ججز پر بھی گراں گزرتی ہے، کچھ مجبور ہو سکتے ہیں اس کو سمجھ سکتی ہوں،لیکن یہ عدلیہ کی عزت اورکریڈیبلٹی کے لئے اچھی چیز نہیں ہے،ایسے شخص کو بچانے کے لئے جس کی جانے کی دعائیں پورا پاکسان مانگ رہا ہے،جسے گلی گلی محلے القابات سے نوازا جارہا ہے،اسے ووٹ،آٹا، چینی، گیس اور بجلی چور کے نام سے یاد کیا جارہاہے ایسے شخص کو بچانے کے لئے عدلیہ اور عدل کے پورے نظام کو جھونکنا کوئی عقلمندی نہیں۔ انہوں نے ویڈیو سکینڈل کے حوالے سےکہا کہ ویڈیو بنانے والے،ریلیز کرنے بھی یہ خودہیں، پیسے دینے اور پیسے لینے والے بھی خود ہیں پھر یہ کس کو بیوقوف بنا رہے ہیں،عمران خان کہتے ہیں ویڈیو کو چھوڑیں آپ ٹائمنگ کو دیکھیں، جو ٹائمنگ تمہیں سوٹ کرے تو چیئرمین سینیٹ کا پورا کا پورا الیکشن چوری کرلیتے ہو لیکن اب اب تمہارے اراکین اسمبلی بھاگ رہے ہیں تو تمہیں ٹائمنگ یاد آ گئی ہے۔انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ (ن) کو توڑنے کیتاریخی کوشش کی گئی ہے، میرا نہیں خیال کسی جماعت پر اتنا ظلم یا اتنی زیادتی کی گئی ہو، پوری ریاست اورادارے ایک جماعت کے خلاف جھونک دئیے گئے ہیں لیکن اللہ کے فضل وکرم سے ہماری جماعت نہیں ٹوٹی،کیونکہ اب یہ جماعت ایک نظریاتی جماعت بن چکی ہیں،جس طرح عوام نے نواز شریف کے نظریے کو دل سے اپنایا ہے ہر دن ثابت کر رہا ہے نظریہ ٹھیک ہے،آپ جماعت کو تو توڑ سکتے ہیں لیکن نظریے کو نہیں توڑ سکتے لیکن آپ جماعت کو بھی نہیں توڑ سکے،اس کی وجہ یہ ہے کہ جماعت کے اراکین کو عوام میں جاناہوتا ہے عوام ان سے سوال کرتے ہیں،جو جماعت کو چھوڑے گا اس کا احتساب عوام کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم بالکل خفیہ رائے شمار ی کو سپورٹ نہیں کرتی، ہم صرف ان کا دوہرے معیار کو ایکسپوز کرنا چاہتے ہیں۔انتخابی اصلاحات ضرور کریں گے کیونکہ پی ڈی ایم بھی یہ ہی چاہتی ہے مگر قانون سازی بندہ تابعدار کے ساتھ بیٹھ کر نہیں ہوسکتی،خفیہ بیلٹ میں صرف پیسہ نہیں چلتا، سینیٹ انتخابات میں عجیب و غریب حرکات ہوتی ہیں کبھی فون ہوتے تو کبھی وفاداری تبدیل کرنے کیلئے فائل کھولنے کی دھمکی دی جاتی ہے، جعلی حکومت نہیں عوامی نمائندے ہی اوپن بیلٹ کا قانون پاس کریں گے،چیئرمین سینٹ کا انتخابات چوری ہوا، جج ملک ارشد کا معاملہ ہوا، آپ وہ بات کریں جس سے آپ کی اور آپ کے ادارے کی کریڈیبیلٹی خراب نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ کس طرح سینیٹ چیئرمین کا انتخاب چھیننا گیا،شوکت عزیز،قاضی فائز عیسی اور ارشد ملک کا اعتراف سب کے سامنے ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2018ء میں کیاقوم کے ووٹ پر ڈاکہ نہیں ڈالاگیا، انتخابی اصلاحات کریں گےلیکن پی ڈی ایم اور (ن)لیگ بھی یہی چاہتی ہے کہ حقیقی جمہوریت ہو، پارٹی کے اراکین کے بارے میں پتہ ہے،ہمیں علم ہے جو پارٹی کے خلاف غداری یا بے وفائی نہیں کرنا چاہتا، رابطے اوپر ہوتے ہیں جن کو ضرورت ہو وہ بیک ڈور رابطے کرتے ہیں،نوازشریف ہمیشہ اس بات کھڑے رہے کہ سلیکٹڈ کو عوام پر زبردستی لایاگیا، سلیکٹڈر کو من مانی کی اجازت ہوگی تو یہی ہوگا جو اب ہو رہاہے، عوام کی زیادتی کا ازالہ کرنے کی کوشش کررہے، تبدیلی لوگوں کو پسند نہیں آئی تبدیلی کو ووٹ دینے والے چھپتے پھر رہے ہیں۔



اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں