27

”سانس لینا بھی سزا لگتا ہے،اب تو مرنا بھی روا لگتا ہے” معروف شاعر احمد ندیم قاسمی کی آخری آرام گاہ پرگندگی کے ڈھیر

لاہور(آن لائن) پاکستان کے معروف ادیب، شاعر، افسانہ نگار، صحافی، مدیر اور کالم نگارکی آخری آرام گاہ پرگندگی کے ڈھیرانتظامیہ اور حکومت کی غفلت کا منہ بولتا ثبوت ہیں ،تفصیلات کے مطابق 20نومبر 1916 ء کو وادی سون سکیسر کے گاؤں انگہ ضلع خوشاب کے ایک اعوان گھرانے میں پیدا ہونے والے انجمن ترقی پسندمصنفین سے ایک عرصہ تک وابستہ رہنے والے پاکستان کے معروف ادیب،شاعر،افسانہ نگار،صحافی ،مدیراورکالم نگاراحمدندیم قاسمی کی قبرواقع سمن آبادقبرستان لاہورپرگندگی کے ڈھیربحیثیت قوم ہمارے ضمیرکوجھنجھوڑرہے ہیں،ڈپٹی کمشنرلاہوراوراعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ادب میں نمایاں کرداراداکرنے والے احمدندیم قاسمی کی آخری آرام گاہ سے

گندگی کے ڈھیرفوری اٹھائے جائیں ،سمن آبادقبرستان میں جابجا گندگی کے ڈھیروںکی وجہ سے قبرستان میں آنے والوں کو مشکلات کا سامنا ہے،سٹی حکومت لاہورسے اپیل ہے کہ احمدندیم قاسمی کی قبرکے اطراف سے گندگی کے ڈھیرفوری ختم کروائے جائیں تاکہ قبرپرآنے والے عقیدت مند بدبواورتعفن سے محفوظ رہیں۔



اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں