30

سپریم کورٹ کے ججوں کے درمیان سنگین اختلافات قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے لکھا گیا تہلکہ خیز خط منظر عام پر آگیا

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)رواں ہفتے سپریم کورٹ نے اراکین اسمبلی کو فنڈز دینے کے معاملے پر وزیراعظم عمران خان کے جواب کو تسلی بخش قرار دیتے ہوئے مقدمہ نمٹا دیا تھا جس پر اب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فیصلے کی فائل موصول نہ ہونے پر رجسٹرار سپریم کورٹ کوخط لکھ دیا،خط میں انہوں نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے سوالات اٹھا دیئے ۔تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی اسدعلی طور کی جانب سے ٹویٹر پر خط کی کاپی شیئر کی گئی ، سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے رجسٹرار کو خط میں کیس نمبر C.M.A.490/2021کا حوالہ دیتے ہوئے کہا

کہ میرے علم میں یہ بات آئی ہے کہ 11 فروری کو کیس کا فیصلہ سنایا گیاہے اور اسے میڈیا میں جاری کر دیا گیا ، یہ نہایت حیران کن ہے کیونکہ مجھے فیصلے کی فائل موصول نہیں ہوئی ،یہ طے شدہ معمول ہے کہ بینچ کی سربراہی کرنے والے جج (اس کیس میں سربراہی چیف جسٹس گلزار احمد کر رہے تھے )فیصلہ جاری کرتے ہیں تو یہ پڑھنے کیلئے سینیارٹی میں دوسرے نمبرپر جسٹس کو بھیجا جاتاہے اور اسی طرح کیس کے فیصلے کی فائل آگے ججز کو بھیجی جاتی ہے تاکہ وہ اپنی رائے دے سکیں ، معزز جسٹس اعجاز الحسن کو فیصلے کی فائل موصول ہوئی لیکن یہ فائل مجھ تک نہیں پہنچی اور میرے دیکھنے سے پہلے ہیپوری دنیا کو اس کا پتا چل چکا ہے ۔خط میں جسٹس فائز عیسیٰ کا کہناتھا کہ براہ مہربانی میری رہنمائی کی جائے کہ فیصلے کی فائل مجھے کیو ں نہ بھیجی گئی اور دوسرے سینئر جج کو کیس فائل بھیجنے کے طے شدہ معمول کو کیوں نہ اپنایا گیا ، میرے پڑھنے سے قبل یہ کس طرح میڈیا کو جاری کر دی گئی ،میڈیا میں جاری کرنے کے احکامات کس نے جاری کیے اور مجھے کیس کی فائل فراہم کی جائے تاکہ میں حتمی طور پر کیس کا فیصلہ پڑھ سکوں اور اپنی رائے دے سکوں۔



اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں