24

48  گھنٹوں میں 2با ربجلی کی قیمتیں بڑھنا تشویشنا ک ، پیاف نے حیران کن انکشاف کر دیا 

لاہور (آن لائن) چیئرمین پاکستان انڈسٹریل اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشنز فرنٹ (پیاف) میاں نعمان کبیر نے سیئنر وائس چیئرمین و سیئنر نائب صدر لاہور چیمبر ناصر حمید خان اور وائس چیئرمین پیاف جاوید اقبال صدیقی کے ہمراہ صنعتکاروں کے ایک وفد سے ملاقات کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشستہ 48 گھنٹوں میں نیپرا کی جانب سے بجلی کی فی یونٹ قیمت میں 1.95روپے اضافے کے فوری بعدفیول ایڈجسمنٹ کی مد میں 83 پیسے فی یونٹ بڑھنے کے ساتھ ساتھ سوئی گیس کے نرخ13.42روپے فی ایم ایم بی ٹی یونٹ بڑھنا سے مہنگائی کا طوفان آجائے گا جو وزیر اعظم کے

صنعت و تجارت دوست ویژن کے خلاف ہے، صنعت وتجارت کا شعبہ پہلے ہی کرونا وبا اور اسکے بعد کی صورتحال سے بری طرح متاثر رہا ہے۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ سے صنعتوں کی پیداواری لاگت بڑھنے سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہو رہا ہے اور اسکو کنٹرول کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ صنعت و تجارت کو ابھی کرونا لاک ڈائون کے اثرات پوری طرح ختم نہیں ہوئے تھے کہ بجلی گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے نے معیشت پر سکتہ طاری کر دیا ہے۔ صنعتوں کی پیداواری لاگت میں کئی گنا اضافہ سے پاکستانی مصنوعات عالمی منڈی میں مقابلے کی دوڑ سے بالکل ہی باہر ہو جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ بجلی گیس و پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تیز شرح سے بڑھنا ترقی پذیر معشت کیلئے زہر قاتل ہے ۔ نیپرا کی جانب سے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ ایک سال کیلئے کیا گیا ہے جس پر صارفین پر ۸۴ ارب روپے کا بوجھ پڑے گا۔ حکومت فیول ایڈجسمنٹ کا فارمولہ ختم کرے کونکہ صنعتی شعبہ سے اس مد میں بجلی استعمال کے بعد کثیر رقم بجلی کے بلز میں وصول کی جاتی ہے اور صنعتی شعبہ کو اسکا ایڈوانٹیج نہیں ملتا۔ حکومت اس فیول ایڈجسمنٹ کے طریقہ کار کو تبدیل کرے یا اسکو ختم کیا جائے۔ حکومت مالی بحران کے باعث آئی ایم ایف جیسے اداروں سے ان کی شرائط پر قرضے حاصل کرتی ہے جس کے باعث انڈسٹریز اور تاجر برادری پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھتا جارہا ہے۔ حکومت زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کیلئے بجلی و گیس کی قیمتوں میں کمی اور صنعتوں کو بجلی گیس کی لوڈ شیڈنگ سے مستثنیٰ اور ٹیکسوں میں بھی کی جائے تاکہ ملکی برآمدات میں اضافہ ممکن ہوسکے ۔اور زرمبادلہ کےذخائر میں اضافہ سے ملک خوشحالی و ترقی کی راہوں پر گامزن ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی میں ہوشربا اضافہ سے حکومتی ساکھ متاثر ہورہی ہے اس لیے حکومت پرائس کنٹرول کمیٹی کو فعال کرکے اور اشیاء کی قیمتوں میں کمی کے فوری اقدامات کرے ۔حکومت کے تاجر دوست ہونے کا ویژن بھی متاثر ہورہا ہے اس لیے حکومت بڑھتی قیمتوں کو کنٹرول کرکے عوام کو ریلیف دینے کے اقدامات کرے۔مہنگائی سے عوام کی قوت خرید کم ہو رہی ہے اور کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہورہی ہیں۔



اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں