28

کچھ ایسی وجوہات ہیں جو بتانا نہیں چاہتا،اسد درانی کیس میں نیا موڑ، جسٹس محسن اختر کیانی نے مزید سماعت سے معذرت کر لی

اسلام آباد (این این آئی)اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے سابق ڈی جی آئی ایس آئی اسد درانی کا نام ای سی ایل سے نکلوانے کے حوالے سے درخواست پر سماعت سے معذرت کرلی۔جمعہ کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے سابق ڈی جی آئی ایس آئی اسد درانی کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے حوالےسے کیس کی سماعت کی۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے کیس پر مزید سماعت سے معذرت کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ کیس کا سارا بیک گراؤنڈ جانتا ہوں، فیصلہ بھی لکھنے کے مرحلے میں تھا۔ یہ افسوسناک

ہے لیکن کچھ ایسی وجوہات ہیں جو بتانا نہیں چاہتا۔ میں یہ کیس چیف جسٹس اطہر من اللہ کو بھیج رہا ہوں۔ چیف جسٹس ہی اس کیس پر سماعت کیلئے نئے بنچ کا فیصلہ کریں گے۔دوسری طرف انسداد دہشتگردی عدالت نے اسلام آباد ہائیکورٹ حملہ کیس میں گرفتار مزید 4 وکلا کو 7 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پرجیل بھیج دیا ہے۔ اسلام آباد کے وکلاء کی ہڑتال چوتھے روز بھی جاری ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ اور جوڈیشل کمپلیکس میں سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ رات گرفتار ہوئے اسلام آباد بار کے سیکرٹری لیاقت کمبوہ سمیت چاروں گرفتار وکلا کو انسداد دہشتگردی عدالت کے جج راجہ جواد عباس کے روبرو پیش کیا گیا۔ عدالت نے چاروں کو 19 فروری کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ ہائیکورٹ حملہ کیس کی ایف آئی آر تھانہ رمنا جبکہ سیشن جج کی عدالت میں توڑ پھوڑ کا مقدمہ تھانہ مارگلہ میں درج ہے۔دوسری جانب اسلام آباد کے وکلاء کی ہڑتال چوتھے روز بھی جاری ہے۔ وکلاء کی جانب سے عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کیا جا رہا ہے۔ اسلام آباد بار کونسل کی جانب سےوکلاء کو تنبیہ کی گئی ہے کہ اگر وہ عدالتوں میں پیش ہوئے تو ان کیخلاف کارروائی کی جائے گی۔ وکلاء کی ہڑتال کے باعث سائلین بھی سخت مشکلات سے دو چار ہیں، جبکہ سیاسی نوعیت کے اہم مقدمات بھی التوا کا شکار ہو گئے ہیں۔اسلام آباد بار کونسل کا موقف ہے کہ جب تک وکلاء کیخلاف مقدمات ختم کر کے انہیں رہا نہیں کیا جاتا،تب تک عدالتوں کا بائیکاٹ جاری رکھا جائے گا۔ سی ڈی اے کی جانب سے گرائے گئے وکلاء کے چیمبرز دوبارہ تعمیر کرائی جائے جبکہ ڈی سی اسلام آباد اور متعلقہ سیشن جج کا تبادلہ بھی کیا جائے۔اسلام آباد ہائیکورٹ اور جوڈیشل کمپلیکس میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔ کسی بھی غیر متعلقہ شخص کو عدالتوں تک رسائی نہیں دی جا رہی۔



اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں