36

کاروباری افراد ٹیکس نہیں دیتے، ان سے۔۔۔ وزیراعظم نے حکام کو پیسے نکلوانے کا طریقہ بتا دیا

لاہور(این این آئی) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پارلیمانی جمہوریت میں ہر پانچ سال بعد انتخابات ہوتے ہیں اس لئے بد قسمتی سے حکومت صرف پانچ سال کا سوچتی ہے کہ کچھ نظر آجائے اور وہ اشتہارات میں دکھا کر اگلے انتخابات جیت جائیں،کسی بھی ملک کا مستقبل پانچ سال کی منصوبہ بندی سے نہیں بنتابلکہ اس کے لئے ہمیشہطویل المدت منصوبہ بندی کرنی پڑتی ہے،شجر کاری مہم میں طلبہ کو خصوصی طور پر شامل کیا جائے، بڑے بڑے بزنس مینوں کو شامل کریں، یہ ٹیکس تو دیتے نہیں لیکن آپ ڈونیشن مانگیں تو دینے کے لئے

تیار ہو جائیں گے۔بڑے بڑے جو بزنسمین ہیں ٹیکس تو دیتے نہیں لیکن اگر آپ ان سے ڈونیشن مانگیں تو وہ دینے کیلئے تیار ہو جاتے ہیں ان ساروں کو استعمال کریں،سارے سبز انقلاب لانا چاہتے ہیں اور اس کے لئے آپ کو بڑے ڈونرز ملیں گے، طلبہ اس میں ضرور شامل کریں،موجودہ حکومت نے 10ارب درخت لگانے کی مہم شروع کی ہے، ملک میں خاموش انقلاب آرہا ہے جس کے تحت ہم ملک میں زیتون کے درخت لگانے لگے ہیں، ہم کھانے کا آئل درآمد کرنے کی بجائے برآمد کریں گے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے جیلانی پارک میں اربن فاریسٹ کے آغاز کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیر اعظم عمران خان کو فضائی آلودگی پر قابو پانے، ماحولیات کے تحفظ کے لئے ابتدائی طور پر 51اربن سائٹس کے ہدف کے حوالے سے بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ تقریب میں وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار، وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے ماحولیاتی تبدیلی امین اسلم،مشیربرائے احتساب و داخلہ شہزاد اکبر، وزیر اعلیٰ کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، صوبائی وزیر ہاؤسنگ میاںمحمود الرشید سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ وزیر اعظم عمران خان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے لاہور کی انتظامیہ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کے لئے سب سے اہم کام ہے۔ گزشتہ بارہ سے تیرہ سالوں میں لاہور کے درختوں کے رقبے میں 70فیصد کمی ہوئی ہے اور اس کا نتیجہ آج سب کے سامنے ہے،فروری کامہینہلاہور میں بہترین ہوتا تھا لیکن آج سورج نظر آتا آتا۔آج دھند نہیں بلکہ سموگ ہوتی ہے، اگر مسلسل سموگ رہے تو یہ انسان کی زندگی سات سے گیارہ سال تک کم کرتی ہے، اس کے بچوں اور بوڑھوں پر خاص طو رپر بڑے برے اثرات ہیں، اس میں شامل زہریلے کیمیکل بچوں کے پھیپھڑوں اور دماغ کو بری طرح متاثر کرتے ہیں،یہ خاموشقاتل ہے، اس کے منفی اثرات نظر نہیں آتے اس لئے لوگ اسے نظر انداز کر دیتے ہیں۔ دنیا میں ریسرچ ہو چکی ہے کہ سموگ کے لانگ ٹرم منفی اثرات ہیں جنہیں شمار نہیں کیا جا سکتا۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ میں لاہور میں پیدا ہوا ہوں اور مجھے یہاں پر ہونے والی ساری تبدیلی یاد ہے، جب ہم مال روڈ سے زمان پارک کی طرفجاتے تھے تو سبزہ ہونے کی وجہ سے ٹمپریچر ایک دم تبدیل ہو جاتا تھا، باغ جناح درختوں سے بھرا ہوا تھا،لیکن اس کے بعد آہستہ آہستہ تبدیلی دیکھی ہے،شہر کی آبادی بڑھتی گئی لیکن اس کے ساتھ مستقبل کے بارے میں سوچا ہی نہیں گیا کہ ہم نے ماحولیات کا بھی دھیان رکھنا ہے اور آج اس کے منفی اثرات سب کے سامنے ہیں۔ ہم اس کوریورس کرنے جارہے ہیں،کوئی بھی ایسی چیز نہیں جو تبدیل نہیں ہو سکتی۔ سنگا پور میں ایک مرکزی دریا تھا جس میں راوی کی طرح صرف سیوریج کا پانی تھا لیکن دس سالوں کے اندر ہم نے دیکھا کہ وہاں پر ایک ایسا وزیر اعظم آیا جسے اپنی عوام کی ہوئی اور آج وہی دریا ہے جس میں مچھلیاں ہیں۔ہمیں بھی اس کے لئے بڑی محنتکرناپڑے گی۔ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار،امین اسلم اور پی ایچ اے کی انتظامیہ نے بہت زبردست پہلا قدم اٹھایا ہے اور پچاس سائٹس کی نشاندہی کی ہے، میاواکی جنگل کے بارے میں یہ نظریہ ہے کہ جو جنگل پچاس سال میں اگتا وہ دس سے بیس سالوں میں اگے گا، جس سے آکسیجن ملے گی۔انہوں نے کہا کہ اسے لوگوں کو دکھانا چاہیے،سب چاہتے ہیں کہ لاہور میں سبزہ ہو جنگلات ہوں درخت اگیں،سب کو پتہ ہے کہ ماحولیات کی کیا صورتحال بن چکی ہے، فضائی آلودگی آ چکی ہے اور اس کے کتنے منفی اثرات ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان سائٹس کو گوگل کے ذریعے لوگوں کو بتائیں کہ کس جگہ پر جنگل اگ رہا ہے اور اس کی گروتھ کیا ہے۔ خیبر پختوانخواہ میں جہاںریگستان تھے وہاں پر اب جنگل ہیں، ہم نے ایک ارب درخت لگائے ہیں،میں خیبر پختوانخواہ حکومت کو بھی کہوں گا کہ لوگوں کو دکھائیں،یہ کوئی سوئی نہیں ہے جو چھپ سکے۔اسی طرح لاہور میں جن سائٹس کا چناؤ کیا گیا ہے لوگوں کو اس کے بارے میں بتایا جائے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے پودے لگانے کا آغاز کر دیا ہے، ہم نے دس اربکاہدف طے کیا ہے،موسم بہار میں پلانٹیشن شروع ہو جائے گی، میں اور بھی علاقوں میں جاؤں گی۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ خاموش انقلاب آ رہا ہے، ہم زیتون کے جنگلات اگانے لگے ہیں، ماہرین کے مطابق دریائے سندھ کا دائیں طرف کا علاقہ اس کے لئے سب سے بہترین علاقہ ہے، پاکستان جو ہر سال کھانے کے آئل اور گھیکی درآمدات پر اربوں روپے خرچ کرتا ہے ہم اپنی بھی ضرور ت پوری کریں گے اور اس کی برآمد ات بھی ہوں گی،اسے اگلے ہفتے لانچ کر رہا ہوں، اس کے لئے علاقے مختص کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ساری قوم کو اس میں شرکت کرنی چاہیے کیونکہ یہ ہمارے بچوں کے مستقبل کا سوال ہے۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہپارلیمانی جمہوریت میں ہر پانچ سال بعد انتخابات ہوتے ہیں بد قسمتی سے حکومت صرف پانچ سال کا سوچتی ہے کہ پانچ سال میں نظر آئے جائے اور اشتہارات دے کر اگلے انتخابات جیت جائیں۔ جو ملک کا مستقبل ہے وہ پانچ سال کی منصوبہ بندی سے نہیں بنتاوہ ہمیشہ طویل المدت منصوبہ بندی سے بنتا ہے اور صحیح معنوں میں ترقی ہوتیہے۔انہوں نے کہا کہ چین کی ترقی معجزہ ہے، دنیا میں کہیں بھی کبھی بھی اتنی تیزی سے ترقی نہیں ہوئی کیونکہ ان کی طویل المدت منصوبہ بندی ہوتی ہے وہ آگے کا سوچتے ہیں۔ چین میں بھی بہت آبادی بڑھ چکی ہے، انہوں نے بھی گروتھ لیکن اب وہ بھی جنگلات اگا رہے ہیں اور انہو نے پورے پورے شہر گرین سٹی قرار دیدئیے ہیں۔انہوںنے کہا کہ ہمیں آنے والی نسلوں کے لئے سوچنا ہے،پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے ہر طرح کی نعمتیں بخشی ہیں،یہاں کے ٹو سے نیچے تک بارہ زونز ہیں، ہم کچھ بھی کر سکتے ہیں کچھ بھی اگا سکتے ہیں۔ پاکستان وہ خوش قسمت ملک ہے جو ہر چیز پیدا کر سکتا ہے۔ یہاں جنگلات ختم کئے گئے،چھانگا مانگا بہت بڑا جنگل تھا،کندیاں میانوالی کا بہتبڑا جنگل تھا،چیچہ وطنی دیپالپور میں جنگلا ت تھے۔سوچیں جب جنگل ختم ہوں گے تو کیا ں اثرات پڑینگے، ماحولیاتی تبدیلی سے موسم پر اثرات پڑتے ہیں، اگر شہروں میں ایک ڈگری سینٹی گریڈ بڑھے گا تو اس کاآپ اندازہ نہیں لگا سکتے اس کے موسم اور مستقبل پرمنفی اثرات ہوں گے۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ اس مہم میںسب کو شامل کریں، سکولوں، کالجز اور یونیورسٹیز کے طلبہ کو شامل کریں، سکولوں کیلئے علاقے بنا کر دیں کہ وہ درختوں کی دیکھ بھال اور مانیٹرنگ، ہم بھی مانیٹر کریں گے،برسات میں پتہ چلے گا کہ اگلے چھ ماہ میں کتنے درخت اگے ہیں، شجر کاری مہم کی کیا صورتحال جاری ہے۔ اس موقع پر وزیر اعظم نے جیلانی پارک میں میاواکی کا پودا بھی لگایا۔

موضوعات:

ہمیں بہرحال

یارلنگ سانگپو دنیا کا بلند ترین دریا ہے‘ یہ 16 ہزار4 سو فٹ کی بلندی پر بہتا ہے‘ گلیشیئر شی گیٹس  سے نکلتا ہے‘ پورے تبت کو عبور کرتا ہے اور پھر بھوٹان اور بھارت میں داخل ہو جاتا ہے‘ یہ دریا بھارت کی ریاست ارون چل میں سیانگ ہو جاتا ہے‘ آسام میں براہما پترا بن جاتا ….مزید پڑھئے‎

یارلنگ سانگپو دنیا کا بلند ترین دریا ہے‘ یہ 16 ہزار4 سو فٹ کی بلندی پر بہتا ہے‘ گلیشیئر شی گیٹس  سے نکلتا ہے‘ پورے تبت کو عبور کرتا ہے اور پھر بھوٹان اور بھارت میں داخل ہو جاتا ہے‘ یہ دریا بھارت کی ریاست ارون چل میں سیانگ ہو جاتا ہے‘ آسام میں براہما پترا بن جاتا ….مزید پڑھئے‎



اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں