30

جو مرضی کرلوتمہارا جانا ٹھہرگیا،عطا تارڑ کی گرفتاری پر مریم نواز بھی میدان میں آ گئیں

اسلام آباد(آن لائن)پاکستان مسلم لیگ (ن)کی نائب صدر مریم نواز نے پارٹی کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری عطا تارڑ کی گرفتاری اور رہائی پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔مریم نواز کا اپنی ٹوئٹ میں کہنا تھا کہ عطا تارڑ کی گرفتاری اور رہائی سے حکومتی خوف اور کنفیوژن عیاں ہے جو مرضی کرلوتمہارا جانا ٹھہرگیا۔خیال رہے کہپنجاب پولیس نے پاکستان مسلم لیگ (ن)کے نوجوان رہنما عطا اللہ تارڑ کو گرفتار ی کے فوری بعد رہا کردیا تھا۔اس حوالے سے وزیراعلی پنجاب کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھاکہ عطا تارڑ نے خود گاڑی میں بیٹھ کراپنی

گرفتاری کا ڈھنڈورا پیٹا۔ان کا کہنا تھاکہ آج ایک سیاسی اداکار نے ڈرامارچایاہے، جب گرفتاری ہی نہیں ہوئی تورہائی کیسی؟ اس کا مقصدوزیرآباداورڈسکہ کے ضمنی الیکشن میں ہمدردیاں حاصل کرناتھا۔دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام اور پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ جب سیاستدان اداروں کے کام سے کام نہیں رکھتے تو اداروں کو بھی سیاستدانوں کے کام سے کام نہیں رکھنا چاہیے ۔سیاستدانوں اور اداروں کو ملک کا وفادار ہونا چاہیے۔سکھر میں جامعہ حمادیہ منزل۔گاہ میں سالانہ جلسہ دستار فضیلت سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے مزید کہاکہ اسلام آباد میں سرکاری ملازمین احتجاج پر ہیں وکیل ڈاکٹرز اور زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد احتجاج پر ہیں لیکن حکمران ہیں کہ وہ اپنی عیاشیوں میں مصروف ہیں اور اپنے اقتدار کی بقا کے لیے ان سے جو ہوسکتا ہے وہ کررہے ہیں ہم نے پاکستان کی تاریخ میں اس طرح کے قابل نفرت حکمران نہیں دیکھے ہیں جن کے پاس نہ اقدار ہے اور نہ کوئی غیرت یہکشمیرکے معاملے پر انسانی حقوق کے کمیشن میں قرارداد لانے کی بات کرتے تھے اور کہتے تھے کہ انہیں کمیشن کے 57 ممبران کی حمایت حاصل ہے مگر ان کو یہ تک نہیں پتہ تھا کہ کمیشن کے تمام ممبران کی کل تعداد ہی 46 تھی اور جب قرارداد پیش کرنے گئے تو ان کو 16 ارکان نہ مل۔سکے جو ان کی حمایت کر سکتے مولانافضل الرحمان کا کہنا تھا کہ یہ حکومت دھاندلی کی حکومت ہے عوام کے ووٹوں کی چوری کی حکومت ہے جسے ہم تسلیم نہیں کرسکتے اس کے خلاف ہماری جنگ جاری رہے گی اس حکومت سے عوام کی بہتری کی امید نہیں ہے اس حکومت نے ہمیں دیا کی ہے بھوک افلاس اور غربت جبکہ ملک کے معاشی حالات کو اس نہج پر۔پہنچا دیاہیکہ غریب آدمی سے اپنے گھر میں اپنے بچوں کی بھوک برداشت نہیں ہورہی ہے ماں باپ بچوں کو نہروں میں پھینک رہے۔ہیں مائیں بچوں کو بازاروں میں فروخت کررہی ہیں لیکن یہ صرف قوم کو جھوٹی تسلیاں دے رہے ہیں ان کے سالانہ بجٹ کا تخمینہ تک صفر ہوگیاہے ہم جب جلسے کرتے ہیں ان میں انسانوں کا سمندر اکٹھاہوتاہے تو وہحکومت کے خلاف نفرت کے جذبات سے بھرا ہوتاہے اس حکومت نے پاکستان کو دنیا میں تنہا کردیا ہے نہ ہمارا پڑوس میں کوئی دوست ہے اور نہ ہی اسلامی ممالک میں معیشت کے حوالے سے بھارت ،سری لنکا،بھوٹان ،نیپال اور بنگلہ دیش جیسے ممالک ہم سے آگے ہیں ہمارے اکابرین نے 150۔سال۔تک قربانیاں دیں اگر ہم ان کے وارثہیں تو ہم پر ان کا یہ قرض واجب ہے کہ ہم ان کی قربانیوں کی بدولت حاصل کیے گئے ملک کو چلائیں۔ انہوں نے مزید کہاکہ انشا اللہ 26 مارچ کو یہی جذبات لے کر اسلام آباد جائیں گے اور انسانوں کا سمندر ان حکمرانوں کو بہا کر لے جائے گا۔ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ آج مدارس حکمرانوں کے نشانے پر ہیں اگر مغربی قوتیںمدارس کو ختم کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں تو ہمیں اس پر حیرت نہیں حیرت ناک بات تو یہ ہے ہمارے حکمران ،ہمارے ملک کے ادارے اس حوالے سے استمعال ہورہے۔ہیں ملک کی سرکاری ،ریاستی اور مملکتی توانائیاں اس بات پر صرف کی جارہی ہیں اسلامی ملک کے حکمران اور ادارے اسلامی روایات کے خلاف استعمال۔ ہورہی ہیںہمیں اللہ پر۔یقین ہے کہ کوئی بھی دنیاوی طاقت ہمارے مدارس کو ختم نہیں کرسکتی جنرل۔مشرف نے بھی ماڈل دینی مدارس بنائے مگر آج وہ۔مدارس کہاں ہیں جنرل۔مشرف خود اعتراف۔کرچکے ہیں کہ اس کے بنائے گئے ماڈل دینی مدارس نہیں چل سکے ہمیں 20سالوں سے اپنے ڈھب پر لانے کی کوشش کی گئی مگر ہمارے استحکام کے باعث وہ ناکام ہوگئے۔ کانفرنس سے جے یوآئی کے صوبائی سیکریٹری جنرل علامہ راشد محمود سومرو، مولانا سعود افضل ہالیجوی ، مولانا صالح انڈھر ودیگر نے بھی خطاب کیا ۔

موضوعات:

ہمیں بہرحال

یارلنگ سانگپو دنیا کا بلند ترین دریا ہے‘ یہ 16 ہزار4 سو فٹ کی بلندی پر بہتا ہے‘ گلیشیئر شی گیٹس  سے نکلتا ہے‘ پورے تبت کو عبور کرتا ہے اور پھر بھوٹان اور بھارت میں داخل ہو جاتا ہے‘ یہ دریا بھارت کی ریاست ارون چل میں سیانگ ہو جاتا ہے‘ آسام میں براہما پترا بن جاتا ….مزید پڑھئے‎

یارلنگ سانگپو دنیا کا بلند ترین دریا ہے‘ یہ 16 ہزار4 سو فٹ کی بلندی پر بہتا ہے‘ گلیشیئر شی گیٹس  سے نکلتا ہے‘ پورے تبت کو عبور کرتا ہے اور پھر بھوٹان اور بھارت میں داخل ہو جاتا ہے‘ یہ دریا بھارت کی ریاست ارون چل میں سیانگ ہو جاتا ہے‘ آسام میں براہما پترا بن جاتا ….مزید پڑھئے‎



اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں