46

سی ڈی اے کا غیر قانونی ہائوسنگ سوسائٹیوں اور اسکیمز کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈائون،شہریوں کی رہنمائی کیلئے ویب سائٹ پرغیرقانونی ہائوسنگ سوسائٹیوں کی فہرست بھی جاری

اسلام آباد (آن لائن)وفاقی ترقیاتی ادارہ (سی ڈی اے )انتظامیہ نے سادہ لوح شہریوں کو لوٹنے والی غیر قانونی ہائوسنگ سوسائٹیوں اور اسکیمز کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈائون شروع کردیا ہے۔پہلے مرحلہ پر غیرقانونی ہائوسنگ سوسائٹیوں کوشوکاز نوٹس بعد ازاں سیل کیا جارہا ہے۔سی ڈی اے ویب سائٹ پرشہریوں کہ رہنمائی کیلئےغیرقانونی ہائوسنگ سوسائٹیوں کی فہرست بھی جاری کردی گئی ہے۔جبکہ غوری ٹائون،راول انکلیو، اور آئیڈیل ریزیڈنشیا سمیت دیگر غیر قانونی ہائوسنگ سوسائٹیوں کے خلاف کارروائی کاعمل شروع کردیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق وفاقی ترقیاتی ادارہ (سی ڈی اے )انتظامیہ نے بڑے پیمانے پر غیر قانونی ہائوسنگ سوسائٹیوں

اور اسکیمز مالکان کے خلاف کارروائی کاعمل شروع کردیا ہے۔اس ضمن میں پہلے مذکورہ سائیٹز کوشوکاز نوٹس جاری کئے گئے ہیں،جبکہ دوسرے مرحلہ پران غیر قانونی سوسائٹیوں کوسربمہر کیا جارہا ہے۔ادارہ ہذا کی جانب سے جن غیر قانونی ہائوسنگ سوسائٹیوں اور اسکیمز کے خلاف کارروائی کی گئی ہے ان میں غوری ٹائون،راول انکلیو،ڈریم لینڈ سٹی،آئیڈیل ریزیڈنشیا،آئی کون انکلیو،اسٹار ورلڈ،گولف ریزیڈنشیا، یارمحمدسوسائٹی اور بابر انکلیو شامل ہیں۔وفاقی دارالحکومت میں آئی سی ٹی زوننگ ریگولیشن1992 کے تحت نجی ہائوسنگ سوسائیٹیز اور اسکیمز موزوں 2،4،5 اور سیکٹر ای الیون میں سی ڈی اے سے منظوری کے بعد سائوسینگ سوسائٹی بنانے کی اجازت ہے۔جبکہ شہریوں کی معلومات اور رہنمائی کیلئے سی ڈی اے کی ویب سائیٹ پرمزکورہ غیر قانونی ہائوسنگ سوسائٹیوں اور اسکیمز کی مکمل فہرست فراہم کردی گئی ہے۔دوسری جانب ادارہ ہذا نے ایس این جی پیایل اور واپڈا کو غیر قانونی اور غیر منظور شدہ ہائوسنگ سوسائٹیوں کوبجلی اور گیس کے کنکشنز فراہم نہ کرنے کیلئے مراسلہ جاری کردیا ہے۔ اس ضمن میں ادارہ ہذا نے تمام غیرقانونی ہائوسنگ سوسائٹیوں کے مالکان کو فوری طور پر اپنے لے آئوٹ پلانزادارہ ہذا سے منظور کروائیں اور ادارہ ہذا کی تجویز کردہ ہدایات پر عمل کریںبصورت دیگر ان کی سوسائٹی کوسیل کرنے کے علاوہ ان کے خلاف قانونی کارروائی بھی کی جائے گی۔اس ضمن میں ادارہ ہذا نے شہریوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ غیر منظور شدہ ہائوسنگ سوسائٹیوں میں اپنا قیمتی سرمایہ لگانے سے گریز کریں،اور اس ضمن میں ادارہ ہذا کی ویب سائٹ یاشعبہ پلاننگ سے معلومات حاصل کریں۔



اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں