44

K2پر گمشدہ پاکستانی کوہ پیما علی سدپارہ کے نام پر چندہ اکٹھا کیے جانے کا انکشاف

سکردو(مانیٹرنگ ڈیسک /این این آئی) ہم کے ٹو سر کرنے والے پاکستانی کوہ پیما علی سدپارہ کے گمشدگی کے بعد ان کے خاندان کی مدد کیلئے چندہ اکٹھا کر رہے ہیں ، آپ لوگوں سے درخواست ہے کہ دل کھول کر چندہ دیں ۔ جبکہ ڈبے پر لکھا دیکھا جا سکتا ہے کہ یہ ریلیف فنڈ علی سدپارہ کیلئے ہے۔تفصیلات کے مطابق معروف صحافی نادیہ مرزا نے اس حوالے سے ٹویٹر پر اپنے پیغام میں لکھا کہ جعلسازوں سے ہوشیار رہیں ۔ ان کا کہاتھا کہ پاکستانی کوہ پیماہ علی سدپارہ کے نام پر کچھ لوگوںکی جانب سے چندہ جمع کیا

جارہا ہے جس کیلئے یہ کہا ہے جارہا ہے کہ ان کی اس مشکل وقت میں ان کی فیملی کیلئے چندہ جمع کر رہے ہیں ۔ معروف صحافی نے لکھا کہ علی سدپارہ کے نام پر چندہ اکھٹا کیا جا رہا ہے کہ انکی فیملی کو مدد درکار ہے جبکہ علی سدپارہ کے بھائی زولفقار سدپارہ کے مطابق اللہ کا کرم ہے انہیں کوئی مالی مدد درکار نہیں بس دعاوں کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب کے ٹو سر کرنے کی مہم میں لاپتا ہونیوالے پاکستانی ہیرو علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سدپارہ نے کہا ہے کہ والد کے خواب کو پورا کر کے پاکستان کے نام کو روشن کرونگا۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سدپارہ نے کہا کہ بیس کیمپ میں آنے کے بعد وہ پانی گرم کرکے اپنے والد کاانتظارکرتا رہا لیکن صبح تک والد کے واپس نہ آنے پربے چینی بڑھ گئی۔ساجد سدپارہ نے کہا کہ سردی میں کلائمنگ بہت الگ ہے، کوہ پیمائی کے سلسلے کو جاری رکھوں گا کیونکہ یہ والد کا خواب تھا اور میں اسے پورا کرنا چاہتا ہوں تاکہ پاکستان کا نام روشن کروں۔انہوں نے کہا کہ والد نے 8 پہاڑ سر کئے تھے اورصرف6 رہتے تھے، میرے والد کو یہ کام بہت پسند تھا، امید ہے میں اس سلسلے کو جاری رکھوں گا۔ قبل ازیں کوہ پیماء علی سد پارہ سمیت 2 غیرملکی کوہ پیماؤں کی تلاش کیلئے زمینی راستے سے مقامی کوہ پیماؤں کی 6 رْکنی ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔تفصیلات کے مطابق کوہ پیماء علی سد پارہ سمیت 2 غیرملکی کوہ پیماؤں کی تلاش کیلئے شروع کیا جانیوالا گرینڈ سرچ آپریشن شدید موسم کی وجہ سے روک دیا گیا ہے۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق کے- ٹو اوربلترو کے علاقے میں آسمان پرگہرے بادل ہیں۔سرکاری ذرائع کے مطابق زمینی راستے سے ریسکیو کیلئے مقامی کوہ پیماوں کی 6 رْکنی ٹیم تشکیل دی گئی ہے، زمینی ریسکیو ٹیم فضائی مشن کی رہنمائی میں ڈیتھ زون تک پہنچنے کی کوشش کرے گی۔ دوسری جانب کے ٹو کو سر کرنے کی مہم بھی ختم کردی گئی ہے جس کے بعد بیس کیمپ پر موجود تمام غیر ملکی کوہ پیما اسکردو روانہ ہو گئے ہیں۔



اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں