35

19 ہجری میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک لشکر  رومیوں سے لڑنے کیلئے روانہ کیا، اس لشکر میں ایک آدمی تھے جن کا  نام عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ تھا،رومیوں نے ان کو قید کر لیا اور۔۔۔

19 ہجری میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک لشکر رومیوں سے لڑنے کے لئے روانہ کیا، اس لشکر میں ایک آدمی تھے جن کا نام عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ تھا۔ یہ آنحضورﷺ کے صحابی تھے۔ رومیوں نے ان کو قید کر لیا اور زنجیروں اور بیڑیوں میں جکڑ کر اپنے بادشاہ کے پاس لے گئے۔ جب اپنے بادشاہ کے سامنے حاضر ہوئے تو انہوں نے بتایا کہ یہ محمدﷺ کا صحابی ہے۔بادشاہ یہ سن کر اپنے تخت سلطنت سے نیچے اترا اور عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کی جانببڑھا۔ عبداللہ بن حذافہ رضی

اللہ عنہ اس وقت شاہی محل میں ثابت قدمی اور پامردی کے ساتھ کھڑے تھے۔ ان بیڑیوں سے ان کی قوت اور ہیبت میں اضافہ ہو گیا تھا۔ بادشاہ یہ چاہتا تھا کہ کسی طرح یہ مسلمان جن کی نظر میں دنیا کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ عیش پسندی اور مرفی الحالی میں مبتلا ہو جائیں۔ وہ قریب آیا اور اس نے عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اگر تم نصرانیت قبول کر لو تو میں تمہیں اپنی بادشاہی اور سلطنت میں شریک کر لوں گا؟ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے نہایت ثابت قدمی کے ساتھ جواب دیا کہ اگر تم مجھے اپنی تمام دولت جس کے تم مالک ہو اور وہ تمام دولت جس کے عرب والے مالک ہیں، دے دو اور مجھ سے کہو کہ تم دین محمدﷺ کو چھوڑ دو تو میں ایسا کبھی نہیں کروں گا۔ بادشاہ نے تیز لہجہ میں کہا کہ اگر نہیں مانو گے تو ہم تجھے قتل کر دیں گے۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم جو چاہو کر لو۔ بادشاہ نے حکم دیا کہ ان کو سولی پر لٹکا دو۔ تیر اندازوں کو کہا کہ تم اس کے ہاتھوں اور پاؤں کے قریب ہو کر تیر برساؤ۔ چنانچہ تیر اندازوں نے عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ پر تیروں کی بارش برسا دی۔ دوسری طرف بادشاہ انہیں عیسائیت قبول کرنے کا کہہ رہا تھا لیکن ان کی سزا سے ان کے ایمان میں اضافہ ہی ہوا۔ پھر بادشاہ نے حکم دیا کہ انہیں نیچے اتار دو چنانچہ نیچے اتارا گیا۔ پھر بادشاہ نے ایک دیگ منوائی اور اس میں روغن زیتون ڈالا جب وہ خود گرم ہو کر تپنے لگا تو اس نے دو مسلمان قیدیوں کو بلایا، ایک کے لئے حکم دیا تو اس کو اس کے اندر ڈال دیا گیا وہ اس دیگ میں تڑپتا رہا حتیٰ کہ اس کا گوشت گل گیا اور ہڈیاں نظر آنے لگیں، بادشاہ اس کے ساتھ ساتھ عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ پر نصرانیت پیش کرتا رہا مگر ان کا انکار پہلے سے زیادہ ہو گیا۔ پھر بادشاہ نے ان کو بھی اس دیگ میں ڈالنے کا حکم دیا۔ جب لشکری ان کو لے کر جانے لگے تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ رونے لگے اور آنسو رواں ہو گئے۔کسی نے بادشاہ سے جا کر کہا وہ رو رہے ہیں۔ بادشاہ نے سمجھا کہ وہ گھبرا گئے ہیں اور ڈر گئے ہیں، بادشاہ نے ہنستے ہوئے کہا، اس کو واپس لے آؤ۔ جب واپس لائے گئے تو بادشاہ نے ان پر عیسائیت پیش کی مگر انہوں نے انکار کیا۔ بادشاہ نے متعجب ہو کر حیرانگی سے پوچھا، پھر تم کیوں روئے تھے؟ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں اس لئے رو رہا ہوں کہ میں نے اپنے آپ سے کہا کہاس وقت تجھے دیگ میں ڈالا جا رہا ہے جس کے نتیجہ میں صرف ایک جان جائے گی، میری خواہش ہوئی کہ کاش! میرے جسم کے ہر بال کی تعداد کے برابر جانیں ہوتیں جو اللہ کی راہ میں قربان کی جاتیں۔ بادشاہ نے حیرت سے اپنا سر ہلایا کہ یہ آدمی تو موت کو معمولی چیز خیال کرتا ہے۔ اس کے بعد بادشاہ آگے بڑھا اور پیش کش کی کہ اگر تم میرے سر کو بوسہ دے دو تو میں تمہیں رہا کر دوں گا؟حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے خوش ہو کر کہا کہ نہیں! صرف مجھے نہیں تمام مسلمان قیدیوں کو رہا کرو گے؟ بادشاہ نے کہا ٹھیک ہے، تمام مسلمان قیدیوں کو چھوڑ دوں گا۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے دل میں کہاکہ اگر خدا کے اس دشمن کے سر کو بوسہ دے دوں اور سارے مسلمان قیدی رہا ہو جائیں تو کوئی حرج نہیں۔ چنانچہ حضرت عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور اس کے سر کو بوسہ دیا۔ اس نے وعدہ کے مطابق مسلمان قیدی حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے حوالے کر دیئے۔حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ ان کو لے کر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے اور سارا واقعہ سنایا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا چہرہ خوشی سے چمکنے لگا اور سینہ کھل گیا ، پکار کر فرمایا ’’ہر مسلمان پر یہ لازم ہے کہ وہ عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کے سر کو بوسہ دے اور آغاز میں کرتا ہوں‘‘۔ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اٹھے، تھوڑے سے جھکے اور عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کے سر کو بوسہ دیا۔



اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں