39

عبیداللہ بن حسن عنبری دوسری صدی ہجری کے اکابر علما میں سے ہیں   انکے شاگرد عبدالرحمن نے ان سے ایک مسئلہ پوچھا تو انہوں نے اس  کا جواب درست نہیں دیا، شاگر نے کہا حضرت شاید آپ سے۔۔۔

عبیداللہ بن حسن عنبری دوسری صدی ہجری کے اکابر علماء میں سے ہیں، وہ بصرہ کے قاضی بھی رہے، ان کے شاگرد عبدالرحمن بن مہدی نے ان سے ایک مسئلہ پوچھا تو انہوں نے اس کا جواب درست نہیں دیا، شاگر نے کہا ’’حضرت! شاید آپ سے غلطی ہو گئی، صحیح جواب یہ ہوناچاہئے‘‘۔ بڑے علماء اپنی غلطی کی اصلاح سے نہیں شرماتے اور وہ بڑے ہوتے بھی اسی لئے ہیں،بڑا ہونا یہ نہیں کہ غلطی معلوم ہونے کے بعد بھی اسی پر ڈٹا رہا جائے، یہ بڑائی نہیں ہٹ دھرمی کہلاتی ہے۔ عبیداللہ نے اپنے شاگرد کے صحیح جواب

سننے کے بعد بہت ہی کارآمد جملہ ارشاد فرمایا، ’’آپ چھوٹے ہیں لیکن بات آپ ہی کی درست ہے، میں بھی آپ ہی کے جواب کی طرف رجوع کرتا ہوں اس لئے کہ باطل میں ’’سر‘‘ اور ’’رئیس‘‘ بننے سے مجھے حق میں ’’دُم‘‘ اور ’’تابع‘‘ بننا زیادہ محبوب ہے‘‘۔



اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں