37

سینٹ انتخابات، حکومت کو آرڈیننس کے اجرا میں 13 ماہ لگے،اس دوران کیا کچھ ہوتارہا؟تفصیلات آگئیں

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سینٹ کے انتخابات کھلے ووٹ کے ذریعہ کرانے کا فیصلہ 13 ماہ کی انتہائی سرگرمیوں کے نتیجے میں ایک متنازع اور مشروط آرڈیننس کے اجرا کی صورت ظاہر ہوا ۔روزنامہ جنگ میں طارق بٹ کی شائع خبر کے مطابق گزشتہ سال 28 جنوری کووفاقی کابینہ نے انتخابی اصلاحات کے لئے سفارشات مرتب کر نے کی غرض سے کمیٹی قائم کی تاکہ آئین اور انتخابی ایکٹ 2017 میں ترامیم کی جائیں ، جس کے تحت سینٹ انتخابات کھلے ووٹ کے ذریعہ کرائے جائیں ، سمندر پار پاکستانیوں کو بھی ووٹ کا حق دیا جائے اور دوہری شہریت کے حامل

پاکستانیوں کو بھی انتخابات لڑنے کی مشروط اجازت ہو نی چاہئے۔کمیٹی کی سفارشات پر کابینہ نے اصلاحات کے پیکیج کی منظوری دی اور دو بلوں میں ان کا احاطہ کیا گیا ۔حکومت نے گزشتہ سال 29 اکتوبر کو 26 واں آئینی ترمیمی بل قومی اسمبلی میں پیش کیا ۔جو غور کے لئے قانون اور انصاف پر ایوان کی قائمہ کمیٹی کے حوالے کر دیا گیا جس نے آئین کے آرٹیکل 59 میں ترمیم کے ذریعہ سینٹ انتخابات بھی صدر اور وزیر اعظم کے انتخاب کی طرح جس کے لئے آئین کے آرٹیکل 226 کو تبدیل کر کے کھلے ووٹ کے ذریعہ کرانے کا فیصلہ کیا ۔آرٹیکل 63 میں بھی تبدیلی کی گئی جس کے تحت دوہری شہریت کے حامل امیدوار کوکامیابی پر اپنی کسی دوسرے ملک کی شہریت ترک کرنے کا حلف نامہ داخل کرنا ہو گا ۔ورنہ وہ نا اہل قرار پائے گا ۔اب جبکہ دونوں ترمیمی بل قومی اسمبلی میں کسی توجہ کے محتاج رہے حکومت نے گزشتہ 23 دسمبر کو سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس دائر کردیا تاکہ سینٹ انتخاباتکھلے ووٹ کے ذریعہ کرائے جا سکیں ۔ریفرنس میں یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ آئین کا آرٹیکل226 صدر ، اسپیکر ، ڈپٹی اسپیکر اور صوبائی اسمبلیوں کے سپیکرز کے انتخاب پر لاگو ہو تا ہے اور الیکشن ایکٹ کے تحت سینٹ ارکان کے انتخاب پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا ۔سپریم کورٹ میں مذکورہ ریفرنس دائر کر نے سے قبل ہی حکومت نے سینٹ انتخابات کھلے ووٹ کے ذریعہ کرانے کا فیصلہ کرلیا تھا ۔گزشتہ 31 جنوری کو مجلس قائمہ نے نصف گھنٹے کے اندر ہی سفارشات کی کثرت رائے سے منظوری دے دی ۔



اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں