40

سپریم کورٹ کا ذہنی معذور سزائے موت کے قیدیوں کو پھانسی دینے کیخلاف اپیلوں پر تاریخ ساز فیصلہ

لاہور (آن لائن) سپریم کورٹ نے ذہنی معذور سزائے موت کے قیدیوں کو پھانسی دینے کیخلاف اپیلوں پر تاریخ ساز فیصلہ سناتے ہوئے دو قیدیوں کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے جبکہ ایک قیدی کی اپیل دوبارہ صدر مملکت کو بھجوانے کی ہدایت کر دی۔جسٹس منظور احمد ملک کیسربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں اپیلوں پر محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا۔فاضل بنچ نے اپنے فیصلے میں ذہنی معذور سزائے موت کے قیدی امداد علی اور کنیزاں بی بی کی موت کی سزاکو عمر قید میں تبدیل کرنے اوردونوں کو پنجاب کے

ذہنی امراض کے ہسپتال میں منتقل کرنے کا حکم دیدیا۔ فاضل بنچ نے غلام عباس کی سزائے موت کے خلاف اپیل صدر مملکت کو دوبارہ بھیجنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ صدر مملکت سے توقع ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں رحم کی اپیل پر فیصلہ کریں گے۔امداد علی، کنیزاں بی بی اور غلام عباس کو قتل کے مقدمات میں موت کی سزا سنائی گئی تھی۔امداد علی کو سال 2002، کنیزاں بی بی کو 1991 اور غلام عباس کو سال 2004 میں سزاسنائی گئی تھی۔کمالیہ کی کنیزاں بی بی کو6 افراد کے قتل کے الزام میں موت کی سزا سنائی گئی تھی ،وہاڑی کے امداد علی پر بوریوالہ میں حافظ عبداللہ کو قتل کرنے کا الزام ہے۔



اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں