38

73سالہ بیٹے نے مسلسل 60 سال سے بچھڑی ماںکوتلاش کر لیا ماں اور بیٹے کی ایسی کہانی پڑھ کر آپ بھی جذبات پر قابو نہیں رکھ پائینگے

لندن (این این آئی)افریقی ملک الجزائر کے ایک شہری اور اس کی گم شدہ ماں کی عجیب کہانی ذرائع ابلاغ میں سامنے آئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ایک الجزائری شہری جسے اس کی ماں صرف دو ماہ کی عمر میں اکیلا چھوڑ گئی مسلسل 59 سال اپنی ماں کو تلاش کرتا رہا ہے۔ آخر کار اس نےاپنی ماں کو پا لیا۔الجزائر کی خاتون یمینہ نے اپنے شوہر کے ظلم سے بچنے کے لیے اپنے دو ماہ کے بچے عبدالرحمان اور اپنے گھر بار کو چھوڑا۔ اس وقت خاتون کی عمر بیس سال کے لگ بھگ تھی اور عبدالرحمان اس کی

اکلوتی اولاد تھی۔ گھر کو چھوڑنے کے بعد وہ الجزائر میں ایک فرانسیسی خاندان کے پاس کام کے لیے چلی گئی۔ وہاں سے وہ فرانس پہنچ گئی جہاں وہ اپنے شوہر اور بچے دونوں سے بہت دور تھی۔ادھر عبدالرحمان ماں کے بغیر بڑا تو ہوگیا مگر ماں کی یاد اور اس کی تلاش میں وہ ایک لمحے کے لیے بھی غافل نہیں رہا۔ وہ 14 سال کی عمر کو پہنچا تو اس نے اپنی ایک خالہ جو اس کی ماں سے رابطے میں تھی کی مدد سے ماں کی تلاش شروع کی۔ مگر ماں نہ مل سکی۔ عبدالرحمان نے ہمت نہیں ہاری بلکہ ماں کی تلاش جاری رکھی۔الجزائری اخبار’النھار’ میں شائع ہونے والی اس کہانی میں بتایا گیا ہے کہ عبدالرحمان کی عمراس وقت 73 سال ہے اور اس کی ماں کی عمر 93 سال کو پہنچ چکی ہے۔عبدالرحمان نے چھ عشرے تکماں کو تلاش کیا اور ماں سے ملنے کی امید دل میں زندہ رکھی۔طویل مدت تک ماں کو تلاش کرنے کے بعد اب اسے پتا چلا کہ اس کی ماں فرانس کے جنوب مشرقی شہر لیون میں ہے۔ عبدالرحمان کو جب ماں کا پتا چلا تو وہ اس وقت بیلجیم میں تھا۔ اس نے فورا لیون کے لیے رخت سفرباندھا۔تاہم اسے یہ سن کرصدمہ پہنچا کہ اس کی ماں ایک اولڈ ہوم میںہے اور اسے دماغی فالج کا عارضہ لاحق ہوچکا ہے۔ عبدالرحمان نے اپنی گم شدہ ماں سے ملاقات کی تو اس کی ویڈیو برسلز میں الجزائری قونصل خانے کی طرف سے نشر کی گئی ہے۔اس ویڈیو میں عبدالرحمان کاکہنا ہے کہ میرا والد بہت سخت تھا اور وہ ماں کو مارتا پیٹا رہتا۔ اسی وجہ سے ماں مجھے میری دادی کے پاس چھوڑ کر گھرسے چلی گئی تھی۔ مجھے اس حقیقت کا پتا اس وقت چلا جب میری عمر 14 سال ہوئی۔اس نے بتایا کہ میں نے اپنی ماں کی تلاش شروع کر دی۔ میں پوری زندگیماں کو تلاش کرتا رہا اور ایک دن بھی ماں کی تلاش سے مایوس نہیں ہوا۔ مجھے ہمیشہ یہ یقین رہتا کہ میری ماں زندہ ہے مگر میری خوشی ابھی مکمل نہیں ہوئی کیونکہ ڈاکٹروں نے ماں کو میرے ساتھ آنے کی اجازت نہیں دی۔ دوسری طرف ماں یمینہ کا کہنا ہے کہ میں بالکل تنہا تھی۔ میں نے بھی الجزائر واپسی کی امید کبھی نہیں توڑی۔ میںنے الجزائر واپسی کے لیے پہلی بار ویزہ بھی حاصل کیا۔



اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں