36

عوام کی جیبوں پر ڈاکا ، پیٹرول کی اصل قیمت کیا ہونی چاہیے 112روپے فی لیٹر پٹرول فروخت کیا جارہا ہے، پیسہ کس کی جیب میں جارہا ہے ، سابق وزیراعظم کے حیرت انگیز انکشافات

حیدر آباد(آن لائن)سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ(ن) کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ پٹرول70 روپے لیٹر ہونا چاہئے مگر112روپے فروخت ہورہا ہے،باقی پیسہ کس کی جیب میں جاتا ہے،پاکستان کی 11جماعتیں کہتی ہیں کہ ملک کو آئین کے مطابق چلایا جائے،ایک سوچ ہے جو پاکستان پر مسلط کی گئی ہے اور کوشش کی جارہی ہے کہ صوبوں کے حقوق پر ڈاکا ڈالا جائے،بینظیر بھٹو کےزمانے سے ہم نے انتخابات بھی لڑا، میثاق جمہوریت بھی کیا، مخلوط حکومت بھی بنائی، جمہوریت کا سفر بے کیا اور آخر میں اٹھارویں ترمیم ہوئی جس کے نتیجے میں عوام کے حقوق

صوبوں کو دیے گئے، جو آج آپ کے پاس ہیں جس کا ثمر عوام کو مل رہا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے  حیدر آباد میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے  کیا ۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ دھاندلی کے باوجود سے زیادہ ووٹ لینے کی تمام جماعتیں کہہ رہی ہیں کہ ملک کو آئین کے مطابق چلایا جائے،سندھ میں آج گیس بھی نہیں ہے اور ہر طرف مسائل ہیں اور اس کی وجہ 2018 کے انتخابات کی چوری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہاں ایسی جماعتیں موجود ہیں جن کو ماضی میں غداراور ایجنٹ کہا گیا لیکن آج وہ سب جماعتیں قومی دھارے میں ہیں اور کہہ رہی ہیں پاکستان میں آئین کی حکمرانی ہونی چاہیے اور عوام کے مسائل کا حل آئین کی حکمرانی میں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایک سوچ ہے جو پاکستان پر مسلط کی گئی ہے اور کوشش کی جارہی ہے کہ صوبوں کے حقوق پر ڈاکا ڈالا جائے، یہ تمام جماعتیں اٹھارویں ترمیم میں شامل تھیں۔انہوںنے کہا  کہ پٹرول70 روپے لیٹر ہونا چاہئے مگر112روپے فروخت ہورہا ہے،باقی پیسہ کس کی جیب میں جاتا ہے،پاکستان کی 11جماعتیں کہتی ہیں کہ ملک کو آئین کے مطابق چلایا جائے۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ محترمہ بینظیر بھٹو کے زمانے سے ہم نے انتخابات بھی لڑا، میثاق جمہوریت بھی کیا، مخلوط حکومت بھی بنائی، جمہوریت کا سفر بے کیا اور آخر میں اٹھارویں ترمیم ہوئی جس کے نتیجے میں عوام کے حقوق صوبوں کو دیے گئے، جو آج آپ کے پاس ہیں جس کا ثمر عوام کو مل رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ آج ایک کوشش ہے کہ ان ساری چیزوں کو واپس کیا جائے، صوبوں کے حقوق واپس لے کر ایک وفاقی نظام کے تحت کردیا جائے، ایسا کوئی معاملہ ہم پاکستان میں ہونے نہیں دیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ جنگ پی ڈی ایم نے لڑنی ہے، پاکستان کے عوام اور صوبوں کے حقوق کی جنگ پی ڈی ایم لڑ رہی ہے اور سندھ کے حقوق پر شب خون مارنے نہیں دیں گے، جو حقوق اٹھارویں ترمیم میں ملے تھے اس کو واپس کرنے نہیں دیں گے جس پر تمام جماعتیں متفق ہیں۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ کوشش کی جارہی ہے کہ ملک میں ایک صدارتی یا نیم صدارتی نظام واپس لایا جائے، پارلیمان اور عوام کے منتخب نمائندوں، وزیراعظم کو ایک غیر منتخب شخص کے تابع کیا جائے لیکن یہ شب خون کبھی کسی کو مارنے نہیں دیں گے، جن حقوق کو عوام کے حوالے کیا گیا کسی کو لینے نہیں دیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ایک نکتے پر تمام جماعتیں متفق ہیں کہ ہم نے پاکستان کو آئین کے مطابق چلانا ہے، جو جمہوریت کا سفر ہے وہ پارلیمان کا سفر آج مفلوج کردیا گیا، جس پارلیمان میں عوام کے مسائل کی بات نہیں ہوسکتی، آج ان سب مسائل کا حل پی ڈی ایم کے ایک نکتیپر ہے نظام کو واپس پارلیمانی جمہوریت کی طرف لے کر جانا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارا آپ سے وعدہ ہے سندھ کے حقوق کو چھیننے کی اجازت نہیں دیں گے لیکن اس کے لیے 26 مارچ کو سب کو نکلنا پڑے گا چند دنوں کی تکلیف ہے اور اسی لگن سے بہتر مستقبل ملے گا۔



اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں