33

بی آر ٹی بس پھر بیمار ہو گئی

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک/آئن لائن )پشاور میں بی آر ٹی بس ایک بار پھر بیمار ہو گئی ۔ نجی ٹی وی رپورٹ کے مطابق بی آر ٹی بس میں خرابی کے باعث مسافروں کو اتار کردوسری بس میں سوار کیا گیا اور خراب بس کوکرین کے ذریعے چمکنی ڈپو منتقل کر دیا گیا۔ بی آر ٹی بس میں خرابی کے باعث مسافروں کو اتار کردوسری بس میں سوار کیا گیا اور خراب بس کوکرین کے ذریعےچمکنی ڈپو منتقل کر دیا گیا۔ شاور میں بس ریپیڈ ٹرانزٹ (BRT) کے لئے 30 نئی بسیں چین نےپاکستان بجھوا دیں۔ترجمان ٹرانس پشاور کا کہنا

تھا کہ بی آر ٹی کی 30 نئی بسیں 18 میٹر لمبی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ نئی بسوں کی آمد کے بعد بی آر ٹی پشاور میں بسوں کی مجموعی تعداد 158 ہو جائے گی ۔دوسری جانب سپریم کورٹ نے خیبرپختونخوا حکومت کو بڑا ریلیف دیتے ہوئے پشاور میں بس ریپڈ ٹرانزٹ منصوبے (بی آر ٹی) کی تحقیقات کا پشاور ہائیکورٹ کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے نیب تحقیقات کرانے کے حکم کیخلاف صوبائی حکومت کی اپیل منظور کرلی۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ بی آر ٹی پشاور کی تحقیقات نیب نہیں کر سکے گا، ہائی کورٹ کا فیصلہ قیاس آرائیوں پر مبنی تھا۔عدالت نے پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو اضافی دستاویزات پر مشتمل جواب داخل کرانے کیلئے ایک ماہ کی مہلت دیدی۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ متعلقہ افسران درخواست گزاران کے تحفظات سنیں، زندگی میں ایک بات سمجھ آئی ہے، عوامی عہدے دار درحقیقت محافظ ہوتے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں بی آرٹی منصوبے سے متعلق پشاورہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل پرسماعت ہوئی ، جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے سماعت کی۔ دوران سماعت وکیل کے پی حکومت مخدوم علی خان نے دلائل دیے کہ پشاور ہائیکورٹ نے نیب کو تحقیقات کا حکم دیا تھا، ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ بلیک لسٹ کمپنی کو ٹھیکہ دیا گیا، حالانکہ جس کمپنی کو ٹھیکہ دیا گیا وہ بلیک لسٹ نہیں۔ وکیل صفائی نے کہا کہ بی آر ٹی پشاور منصوبے کی تحقیقات کیلئے دیئے دونوں فیصلوں میں صرف الفاظ کا فرق ہے، ایک فیصلے میں ایف آئی اے سے تحقیقات کا کہا گیا، دوسرے فیصلے میں نیب سے تحقیقات کا ذکر ہے۔جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا کہ آپ پر الزام ہے کہ بی آر ٹی کی لاگت تخمینے سے زیادہ آی‎، یہ بھی الزام ہے کہ جو فلائی اوور اور انڈر پاس بنے وہ معیاری نہیں، کئی مقامات پر راستے کی چوڑائی کم تھی ، جسے توڑ کر دوبارہبنایا گیا۔جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا کہ آپ پبلک آفس ہولڈر ہیں ،ان الزامات کا جواب دینا ہوگا، پشاور ہائی کورٹ کے تحقیقات نیب کے ذریعے کروانے کے حکم میں نقائص ہیں۔ کیس کی سماعت کے دوران خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے درخواست گزاران سے جسٹس عمر عطائ بندیال کا دلچسپ مکالمہ ہوا۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے درخواست گزاران سے پشتو میں کہا آپ صبر کریں۔جسٹس منیب اختر نے لقمہ دیا کہ مجھے نہیں پتہ میرے سینئر فاضل جج صاحب نے پشتو میں کیا کہا، لیکن جج صاحب نےجو کہا میں اس سے متفق ہوں۔درخواست گزار عدنان آفریدی نے موقف اختیار کیا کہ منصوبے سے متعلق ہمارے خدشات اپنی جگہ پر موجود ہیں۔ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ اگر آپ کے تحفظات متعلقہ حکام ختم کردیں تو کیا معاملہ حل ہو جائے گا۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ بی آر ٹی پشاور کی تحقیقات نیب نہیں کر سکے گا، ہائی کورٹ کا فیصلہ قیاس آرائیوں پر مبنی تھا۔ جس کے بعد سپریم کورٹ نے نیب سےتحقیقات کروانے کا پشاور ہائی کورٹ کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے نیب تحقیقات کروانے کے حکم کے خلاف صوبائی حکومت کی اپیل منظور کرلی جبکہ سپریم کورٹ نے بی آرٹی منصوبے کی لاگت میں اضافے اور غیر معیاری تعمیرات پر رپورٹ بھی طلب کر لی۔عدالت نے بی آرٹی پر صوبائی حکومت، پشاورڈیولپمنٹ اتھارٹی کی اپیلوں پرحکم امتناع میں توسیع کرتے ہوئے ایف آئی اے کو آئندہ سماعت تک تحقیقات سے روک دیا، بعد ازاں بی آر ٹی کیس کی سماعت ایک ماہ کے لئے ملتوی کردی گئی۔



اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں