42

شدید ترین سردی میں زندہ بچنے کے امکانات بہت کم، سخت موسم کے باعث لاپتا کوہ پیماؤں کی تلاش کا فضائی آپریشن رْک گیا

اسلام آباد (این این آئی) کے 2 پہاڑ کی چوٹی سر کرنے کے مشن کے دوران لاپتا کوہ پیماؤں کو تلاش کرنے کے لیے فضائی نگرانی کے ذریعے کیا جانے والا سرچ آپریشن مسلسل تیسرے روز پیر کو بھی جاری رہا جسے بالآخر شدید خراب موسم کے باعث روک دیا گیا۔محمد علی سد پارہ، آئس لینڈ کے جان اسنوری اور چلی کے ایم پی مہر سےاس وقت تک رابطہ نہیں ہوسکا جب سے انہوں نے جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب کیمپ 3 سے کے ٹو کی چوٹی تک پہنچنے کے سفر کا آغاز کیا۔ریسکیو مشن میں بلندو بالا چوٹیاں

سر کرنے والے مقامی کوہ پیماؤں میں شمشال سے فضل علی اور جلال، اسکردو سے امتیاز حسین اور اکبر علی، رومانیہ کے الیکس گوان، نذیر صابر، چنگ داوا شیر پا اور موسم سرما میں کوہ پیمائی کرنے والی ایس ایس ٹی ٹیم کے دیگر اراکین شامل تھے۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے الپائن کلب کے سیکریٹری کرار حیدری نے تصدیق کی کہ پیر کو بھی تلاشی کا عمل شروع کیا گیا تھا تاہم موسم کی موجودہ صورتحال نے سرچ آپریشن کو انتہائی مشکل بنا دیا ہے۔نیپال سے تعلق رکھنے والے چنگ داوا شیر پا اور لکپا دیندی شیر پا کو پاک فوج کے ہیلی کاپٹرز میں کے2 کے بیس کیمپ سے پرواز پر لے جایا گیا لیکن بالآخر ٹیموں کو لوٹنا پڑا۔ٹوئٹر پر ایک پیغام میں چنگ داوا نے کہا کہ آرمی ایوی ایشن 5 اسکواڈرن کی مدد سے پاک فوج کے 2 ہیلی کاپٹروں میں تلاشی کے لئے پرواز کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ لکپا دیندی اور میں ان علاقوں سے گزرے جہاں ہمیں لاپتا کوہ پیماؤں کی موجودگی کا گمان تھا، تاہم حد نگاہ کم تھی اور پہاڑ کا بالائی حصہ بادلوں سے ڈھکا ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 3 روز سے پائلٹس اپنی حد سے بڑھ کر اچھا کامکررہے ہیں لیکن ہمیں کوئی سراغ نہ مل سکا، ٹیم قدرے بہتر موسم کا انتظار کررہی ہے جب تلاش ممکن ہوسکے۔موسم کی سختی کس طرح تلاشی کے عمل کو محدود کرتا ہے کہ وضاحت کرتے ہوئے جاسمین ٹورز کے سربراہ علی اصغر پوریک نے بتایا کہ ہیلی کاپٹر کو 4 گھنٹے پرواز کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کیلئے صاف موسمدرکار ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ‘ہیلی کاپٹر کو سکردو سے کے2 بیس کیمپ پہنچنے کیلئے 40 منٹ لگتے ہیں، سمت کے تعین کیلئے موسم صاف ہونا ضروری ہے، 5 ہزار میٹر بلندی پر موسم شدید اور ناقابل اعتبار ہوجاتا ہے۔دوسری جانب کے2 پر سرچ آپریشن میں رضاکارانہ طور پر شامل ہونے والے محمد علی سد پارہ کے 2 رشتہ داربھی واپسی کی راہ پر ہیں۔علی اصغر پوریک نے کہا کہ یہ دونوں تجربہ کار بلند چوٹیوں کے پورٹر ہیں اور ساجد سد پارہ کی بحفاظت نیچے آنے میں مدد گار تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ چونکہ یہ دونوں بھی محمد علی سد پارہ کے خاندان سے ہیں اس لیے ان کے لیے دونوں خاص جذبات رکھتے ہیں تاہم ہم نے ان سے واپس زمین پر آنے کیدرخواست کی جس پر وہ واپس آرہے ہیں۔علی اصغر پوریک کے مطابق جان اسنوری نے موسم سرما میں کے-2 سر کرنے کے لیے ان کی جاسمین ٹورز کی خدمات حاصل کی تھی اور محمد علی اور ساجد ان کے ہمراہ اس مہم کے لیے پورٹر کے طور پر ساتھ گئے تھے۔دریں اثنا ذرائع کا کہنا تھا کہ نیپالی کوہ پیماؤں نے اپنا بیس کیمپ لپیٹدیا ہے، کینیڈین فلم ساز ایلیا سیک لے اور کوہ پیما پاسنگ نوربو شیر پا کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے واپس اسکردو پہنچادیا گیا۔اس ضمن میں علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سدپارہ نے کے ٹو سرچ آپریشن کے بعد سکردو میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ علی سدپارہ اور ان کے ساتھیوں کو کیٹو سر کرنے کے بعد واپسی میں کوئی حادثہ ہواہے، وہ 8200 میٹر کی بلندی تک پہنچے تھے۔ساجد پارہ نے کہا کہ تین دنوں تک لاپتا ہونے کے بعد شدید ترین سردی میں زندہ بچنے کے بہت کم امکانات ہیں، اس موسم میں بغیر ساز و سامان کے تین دنوں تک کوئی زندہ نہیں رہ سکتا ہے تاہم باڈیز کو لانے کیلئے آپریشن کیا جاسکتا ہے۔ انہوںنے کہا کہ جب دیگر کوہ پیما نیچے اتر گئے تھےتو میں، میرے والد علی سد پارہ، جان اسنوری اور جے پی مہر نے نے رات 12 بجے کے2 کی چوٹی کا مشن شروع کیا تھا لیکن 8 ہزار 200 میٹر کی بلندی پر آکسیجن ریگولیٹر نہ ہونے کی وجہ سے مجھے واپس آنا پڑا۔انہوں نے بتایا کہ دوپہر 12 بجے انہوں نے بوٹل نیک سے نیچے اترنا شروع کیا اور 5 بجے کیمپ 3پر پہنچ گئے تھے لیکن مواصلاتی آلات نہ چلنے کی وجہ سے ان کا کوہ پیماؤں سے رابطہ نہیں ہوسکا۔ساجد سد پارہ نے کہاکیمپ 3 پر انہوں نے اپنے خیمے کی لائٹ جلا کر رکھی تا کہ لاپتا کوہ پیما اسے دیکھ سکیں، ہفتے کے روز کیمپ مینیجر نے ساجد کو موسمی حالات کی وجہ سے اوپر جانے سے منع کیا اور انہیں نیچے آنے کا مشور دیا۔انہوں نے کہا کہ جمعے کی صبح 11 بجے ان کے والد علی سد پارہ اور دیگر 2 کوہ پیما بوٹل نیک پار کررہے تھے جو کے ٹو کا سب سے خطرناک مقام ہے اور مجھے یقین ہے کہ انہیں چوٹی سے واپسی میں ہی کوئی حادثہ پیش آیا ہوگا۔

موضوعات:

زندگی کا ذائقہ

مولانا روم کونیا میں ہر جمعہ کو خطاب کرتے تھے‘ لوگ سیکڑوں میل سفر کر کے خطاب سننے آتے تھے‘ زائرین کاشغر سے زیارت‘ غورستان سے اصفہان اور بلخ سے لے کر مشہد تک سے کونیا آتے تھے اور کاروان سرائے میں بیٹھ کر جمعہ کا انتظار کرتے تھے‘ جمعہ کی نماز سے پہلے درگاہ کے دروازے کھول ….مزید پڑھئے‎

مولانا روم کونیا میں ہر جمعہ کو خطاب کرتے تھے‘ لوگ سیکڑوں میل سفر کر کے خطاب سننے آتے تھے‘ زائرین کاشغر سے زیارت‘ غورستان سے اصفہان اور بلخ سے لے کر مشہد تک سے کونیا آتے تھے اور کاروان سرائے میں بیٹھ کر جمعہ کا انتظار کرتے تھے‘ جمعہ کی نماز سے پہلے درگاہ کے دروازے کھول ….مزید پڑھئے‎



اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں