52

درخواستیں دے دے کر تھک گیا، ایم فل پاس نوجوان چوکیداری کرنے پر مجبور

ملتان(این این آئی)ایم فل کرنے والانوجوان بیروزگاری سے تنگ آ کر چوکیدار بن گیا۔ اکنامکس میں ایم ایس سی اورایم فل کرنے کے بعد ملتان کے نوجوان کو نوکری نہ مل سکی تو اس نے مجبوری میں چوکیداری شروع کردی۔ 28 سالہ احسان نے جامعہ بہااؤلدین زکریا سے اکنامکس میں ماسٹرز اور پھر ایم فل کیا۔احسان کا کہنا ہے کہایسی کوئی جگہ نہیں تھی جہاں اس نے ملازمت کے لیے درخواست نہ دی ہو۔ دوسری جانب پنشن کے بغیر سرکاری نوکری کا نیا نظام متعارف کرانے کی تجویز پر غور شروع کردیا ہے آئندہ سال سے صوبائی اور وفاقی محکموں

کے ملازمین کیلئے پنشن کے موجودہ نظام کی جگہ نیا نظام متعارف کرایا جائے گا خیبر پختونخوا کی جامعات میں یہ پالیسی پہلے سے ہی نا فذ العمل کر دی گئی ہے جبکہ مرحلہ وار طور پر صوبے کے مختلف اداروں میں بھی یہ پالیسی مرتب کرنے پر غور کیا جارہاہے ذرائع کے مطابق پنشن کی نئی کنٹربیوٹری فنڈ سکیم کا اطلاق نئے بھرتی ہونیوالے سرکاری ملازمین پر ہوگا اس سے موجودہ سرکاری ملازمین متاثر نہیں ہونگے، نئے نظام پر پے اینڈ پنشن کمیشن کام کررہا ہے، ذرائع کے مطابق موجودہ سرکاری ملازمین کیلئے پے اینڈ پنشن کا موجودہ نظام جاری رہے گا اور موجودہ سرکاری ملازمین متاثر نہیں ہونگے تاہم نئے بھرتی ہونیوالے سرکاری ملازمین کیلئے پنشن فنڈز تشکیل دیا جائے گا یہ فنڈ کنٹری بیوٹری پنشن فنڈ کہلائے گا، اس فنڈ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہ سے بھی رقم شامل کی جائے گی، کنٹریبویٹری پنشن فنڈ میں حکومت کی جانب سے بھی سیڈ منی رکھی جائے گی جبکہ سرکاری ملازمین کی جانب سے دو طرح کی پنشن کیلئے کنٹربیوشن میکنزم ہونگے، ایک کنٹربیوشن براہ راست پنشن فنڈ میںجائے گی جبکہ دوسری کنٹری بیوشن سرکاری ملازمین کے اپنے اکاؤنٹ میں جمع ہوگی جو ریٹائرمنٹ کے وقت اس کو پنشن کی مد میں جاری کر دی جائیگی، ذرائع کے مطابق پنشن فنڈ کی رقم سے سرمایہ کاری بھی کی جائے گی تاکہ اس میں اضافہ ہو اور پنشن کا براہ راست بوجھ قومی خزانے پر ختم کیا جائے، ذرائع کے مطابق وفاقی سرکاری ملازمین کی پنشن کا بل 470ارب روپے ہے اور تنخواہوں سمیت 1100ارب روپے کا قومی خزانے پر بوجھ ہے۔



کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں