39

حکومت کوصدارتی آرڈیننس جاری کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا، چیف جسٹس کے اہم ریمارکس آرڈیننس کیخلاف جے یو آئی کی درخواست پر بڑا حکم جاری

اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ نے سینٹ الیکشن  اوپن بیلٹ کے زریعے کروانے سے متعلق دائر صدارتی ریفرنس پر سماعت 10 فروری تک ملتوی کر دی ہے۔ عدالت عظمی نے الیکشن ترمیمی آرڈیننس کے خلاف جمعیت علمائ اسلام پاکستان کی درخواست ابتدائی سماعت کیلئے منظور کرتےہوئے  اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔اٹارنی جنرل خالد جاوید خان آئندہ سماعت پر بھی دلائل جاری رکھیں گے۔ پیر کو چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کروانے سے  متعلق دائر صدارتی ریفرنس پر سماعت کی۔دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ حکومت نے

پتہ نہیں کیسے الیکشن ترمیمی آرڈیننس جاری کر دیا ہے،مفروضوں کی بنا پر آرڈینس جاری کیا گیا،حکومت کچھ بھی کر سکتی حکومت کو کوئی نہیں روک سکتا۔دوران سماعت جمعیت علماء اسلام پاکستان کے وکیل نے موقف اپنایا کہ حکومت نے اوپن بیلٹ کیلئے آرڈیننس جاری کردیا،حکومت نے عدالتی کاروائی کا ذرا بھی احترام نہیں کیا،آج تک ایسی قانون سازی نہیں ہوئی،جمیعت علماء اسلام پاکستان نے الیکشن ترمیمی آرڈیننس چیلنج کر دیا ہے،صدارتی آرڈیننس میں حکومت نے پہلے سے ذہن بنا کر اسے عدالتی فیصلے سے مشروط کر لیا،سپریم کورٹ صدارتی آرڈیننس جاری کرنے کےمعاملے کا نوٹس لے، دوران سماعت سینٹر رضا ربانی نے موقف اپنایا کہ آرڈیننس جاری کر کے عجیب و غریب حالات پیدا کیے گئے،عدالت کی رائے اگر حکومت سے مختلف ہوتی ہے تو آرڈیننس کا کیا ہوگا،صدارتی آرڈیننس کے دوسرے حصے میں کہا گیا کہ سیاسی جماعت یا انکا نامزدکردہ شخص درخواست دیکر بیلٹ پیپرز دیکھ سکتا ہے،سینیٹ انتخابات آئین کے تحت ہوں ،آرڈیننس میں لکھا ہے یہ فوری نافذ العمل ہوگا،کوئی بھی سیاسی جماعت شفافیت کے سوال پر اعتراض نہیں کر رہی، بنیادی سوال شفافیت کا نہیں ہے،جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہحکومت نے صرف قیاس آرائیوں پر آرڈینس جاری کیا،ہم حکومت کو آرڈیننس جاری کرنے سے روک تو نہیں سکتے، پھر بھی ہم اس معاملے پر اٹارنی جنرل کو سن لیتے ہیں،آرڈیننس کا عدالتی کاروائی پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس آرڈیننس اگرمشروط نہ ہوتا تو کالعدم قرار دے دیتے،دیے کہ آرڈیننس تو عدالتی رائے سے مشروط ہے،عدالتی رائے حکومتی موقف سے مختلف ہوئی تو آرڈیننس ختم ہو جائے گا،آرڈیننس میں یہ بھی لکھا ہے کہ عملدرآمد عدالتی رائے سے مشروط ہو گا،آرڈیننس کو ہائیکورٹ میں چیلنج کیا جاسکتا ہے۔آرڈیننس کے تحت بھی ووٹنگ خفیہ ہی ہوگی بعد میں درخواست دینے پر ووٹ دیکھا جاسکے گا, دوران  سماعت اٹارنی جنرل نے موقف اپنایا کہ ایسا نہیں لگتا کہ سپریم کورٹ کی رائے 11 فروری سے پہلے آسکے گی،بدقسمتی سے اعتراض کرنے والوں نے قانون پڑھنا گوارہ نہیں کیا۔اگر عدالت کی رائے نہ آئی تو سینٹ الیکشن خفیہ رائے شماری سے ہی ہوگا،اوپن بیلٹ کے ذریعے سینیٹ انتخابات کا انعقاد ووٹ کی خرید و فروخت کو روکے گا، اوپن بیلٹ کے زریعے انتخابات صاف اور شفاف ہوں گے،عدالت نے ہمیشہ شفاف انتحابات کیلئے فیصلے دیئے۔جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ سینٹ میچور افراد کا ایوان ہے،سینٹ میں اسمبلی کی طرح جھگڑے نہیں ہوتے تھے،جس دن یہ آبزرویشن دی تھی اسی دن جھگڑا ہو گیا۔ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ باہر کی اسمبلیوں میں تو کرسیاں چل جاتی ہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نےریمارکس دیے کہ پاکستان میں شاید اسمبلی کی کرسیاں اس لیے فکس ہیں،چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ امریکی اسمبلی میں تو لوگوں نے گھس کر توڑ پھوڑ کی تھی،اس قسم کے واقعات پوری دنیا میں ہوتے ہیں،انتخابات صاف اور شفاف ہونے چاہیں،بدیانت لوگوں کو منتخب نہیں ہونا چاہیے۔چاہتے ہیں انتحابی عمل میں شفافیت ہو اور کرپشن ختم ہو،سیاسی جماعتیں شفافیت چاہتی ہیں تو جمعرات کو کیا ہوا تھا؟اسمبلی میں تو بہت مختلف موقف سامنے آیا تھا،جس پر اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ سیاسی جماعتیں جان بوجھ کر ریفرنس کا حصہ نہیں بنیں،دو بڑی سیاسی جماعتیںصدارتی ریفرنس کی سماعت میں فریق نہیں ہیں،یہ بڑی عجیب بات ہے ایڈووکیٹ جنرل سندھ پیپلز پارٹی کی نمائندگی کر رہے ہیں،میں حکومت کا وکیل ہوں تحریک انصاف کا نہیں ،سینٹر رضا ربانی نے عدالت کو بتایا کہ پیپلز پارٹی کا موقف سندھ حکومت کے زریعے آچکا ہے،کوئیبھی سیاسی جماعت سینٹ میں بدعنوان لوگوں کی نمائندگی کی حامی نہیں،جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ  پارٹی اور حکومت دونوں مختلف باتیں ہیں،پارٹی حکومت اور حکومت پارٹی کی جانب سے جواب نہیں دے سکتی۔دوران سماعت جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیےکن میں آئین کے ڈھانچے کو سمجھنے کی کھوج میں ہوں،میں یہ تلاش کر ہا ہوں کہ آرٹیکل 226 کے تحت وزیراعظم اور وزراء اعلی سمیت دیگر انتخابات کا طریقہ کار خفیہ کیوں رکھا گیا،ہم نے اپنے ملک میں اچھے سیاست دان بھی دیکھے ہیں، ہمیں سب سیاست دانوں کو ایک ترازومیں نہیں تولنا چاہیے،سپریم کورٹ نے ایک فیصلے میں کہا کہ پارٹی وفاداری نظریات سے ہوتی ہے، اس سارے عمل میں وقت درکار ہے، 1985 کے عام انتخابات کی مثال ہمارے سامنے ہے،1985 کے انتخابات غیر جماعتی بنیاد پر ہوئی، محمد خان جونیجو نے حکومت بنائیاور پیسے کا بے دریغ استعمال ہوا،جس پر اٹارنی جنرل نے موقف اپنایا کہ میں نے پہلے بھی وضاحت کی تھی کہ آئین بنانے والوں میں ذوالفقار علی بھٹو، ولی خان، مفتی محمود اور نوابزادہ نصراللہ جیسے لوگ شامل تھے، جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ اکبر خان بگٹی اور غوث بخش بزنجو بھی شامل تھے، اکبر بگٹی اور غوث بخش بزنجو اپنے اصولوں پر ڈٹے رہنے والے سیاستدان تھے۔

موضوعات:

زندگی کا ذائقہ

مولانا روم کونیا میں ہر جمعہ کو خطاب کرتے تھے‘ لوگ سیکڑوں میل سفر کر کے خطاب سننے آتے تھے‘ زائرین کاشغر سے زیارت‘ غورستان سے اصفہان اور بلخ سے لے کر مشہد تک سے کونیا آتے تھے اور کاروان سرائے میں بیٹھ کر جمعہ کا انتظار کرتے تھے‘ جمعہ کی نماز سے پہلے درگاہ کے دروازے کھول ….مزید پڑھئے‎

مولانا روم کونیا میں ہر جمعہ کو خطاب کرتے تھے‘ لوگ سیکڑوں میل سفر کر کے خطاب سننے آتے تھے‘ زائرین کاشغر سے زیارت‘ غورستان سے اصفہان اور بلخ سے لے کر مشہد تک سے کونیا آتے تھے اور کاروان سرائے میں بیٹھ کر جمعہ کا انتظار کرتے تھے‘ جمعہ کی نماز سے پہلے درگاہ کے دروازے کھول ….مزید پڑھئے‎



کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں