52

حسن علی کے وکٹ حاضر کرنے کے بعد جنریٹر سٹائل کیساتھ ساتھ بچے کو جھولے میں جھولانے والے انداز کے چرچے

راولپنڈی ( این این آئی)جنوبی افریقہ کے خلاف راولپنڈی ٹیسٹ میں دس وکٹیں حاصل کر کے حسن علی نے ایک بار پھر شائقین کے دلوں میں جگہ بنالی لیکن ساتھ ہی ان کا ایک نیا انداز بھی سب کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔حسن علی نے جب بھی وکٹ حاصل کی تو جنریٹر سٹائل کے ساتھ ساتھ بچے کو جھولے میں جھولانے والے انداز کےذریعے سب کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا کہ آخر یہ کیا ماجرا ہے؟۔میچ کے اختتام پر پریس ٹاک کے دوران استفسار پر حسن علی نے بتایا میرے ہاں بیٹی کی ولادت متوقع ہے اور

میں نے اس شاندار پرفارمنس میں اپنی ہونے والی بیٹی کو یاد رکھا ہے، یہ بچی یقینا میرے لیے اللہ کی رحمت ہے۔حسن علی کا کہنا ہے میچ کے آخری دن جب کھانے کے وقفے پر ٹیم ڈریسنگ روم میں گئی تو بولنگ کوچ وقار یونس نے کہا کہ ہمت نہیں ہارنی، اگر جنوبی افریقی ٹیم اچھا کھیل کر جیت گئی تو یہ الگ بات ہے۔ لیکن ہم نے آخری وقت تک مقابلہ کرنا ہے۔یہ سوچا تھا کہ نئی گیند سے جنوبی افریقی ٹیم کے لیے مشکلات پیدا کریں گے لیکن درحقیقت نئی گیند سے بہت کچھ ہوگیا۔ واضح رہے کہ پاکستان نے جنوبی افریقہ کو دوسرے کرکٹ ٹیسٹ میچ میں 95رنزسے ہرا کر دو ٹیسٹ میچز کی سیریز دو۔صفر سے اپنے نام کر لی۔پنڈی کرکٹ سٹیڈیم میں پاکستان اور جنوبی افریقہ کی ٹیموں کے درمیان کھیلے جانیوالے دوسرے کرکٹ ٹیسٹ میچ کے پانچویں اور آخری روز جنوبی افریقہ نے 127رنز ایک کھلاڑی آوٹ پر اپنی نامکمل اننگز کا دوبارہ آغاز کیا،جنوبی افریقہ کو 127رنز کے مجموعی سکور پرہی دوسرا نقصان اٹھانا پڑا جب ڈوسن48رنز بنا کر حسن علی کی گیند پر بولڈ ہو گئے،جنوبی افریقہ نے دوسری وکٹ کی شراکت میں 94رنزبنائے۔ان کے بعد ڈوپلیسی بیٹنگ کیلئے آئے۔135رنز کے مجموعی سکور پر جنوبی افریقہ کی تیسری وکٹ گر گئی جب ڈوپلیسی صرف05رنز بنا کر حسن علی کی گیند پرایل بی ڈبلیو ہو گئے،اس موقع پر بواما بیٹنگ کیلئے آئے۔کھانے کے وقفے سے قبل جنوبی افریقہ کے اوپنر مارکرم نے اپنی سنچری مکمل کر لی،مارکرم کی یہ پانچویںٹیسٹ سنچری تھی۔پانچویں روز کھانے کے وقفے پر جنوبی افریقہ کا سکورتین وکٹ پر219رنز تھا۔کھانے کے وقفے کے بعد 241رنز کے مجموعی سکور پر جنوبی افریقہ کی چوتھی وکٹ گر گئی جب دوسرے اوپنر مارکرم108رنز بنا کر حسن علی کی گیند پر عمران بٹ کے ہاتھوں کیچ ہو گئے،مارکرم نے243گیندوںپر13چوکوں اور تین چھکوں کی مدد سے 108رنزکی شاندار اننگز کھیلی۔جنوبی افریقہ نے چوتھی وکٹ کی شراکت میں 106رنز بنائے۔ان کے بعد کپتان ڈی کوک بیٹنگ کیلئے آئے،241رنز کے ہی مجموعی سکور پر جنوبی افریقہ کی پانچویں وکٹ گر گئی جب کپتان ڈی کوک کوئی رنز بنائے بغیر حسن علی کی گیند پر عمران بٹ کے ہاتھوں کیچہو گئے۔اس موقع پر ویان ملڈر بیٹنگ کیلئے آئے۔جنوبی افریقہ کی چھٹی وکٹ253رنز کے سکور پر گر گئی جب بواما61رنز بنانے کے بعدشاہین شاہ آفریدی کی گیند پر محمد رضوان کے ہاتھوں کیچ ہو گئے،انہوں نے 61رنز125گیندوں پر6چوکوں کی مدد سے بنائے۔ان کے بعد جارج لنڈے بیٹنگ کیلئے آئے،258رنز کےمجموعی سکور پر جنوبی افریقہ کی ساتویں وکٹ گر گئی جب لنڈے صرف04رنز بنا کر حسن علی کی گیند پر فہیم اشرف کے ہاتھوں کیچ ہو گئے۔اس موقع پر مہاراج بیٹنگ کیلئے آئے۔جنوبی افریقہ کی آٹھویں وکٹ 268رنز کے مجموعی سکور پر گر گئی جب مہاراج بغیر کوئی رنز بنائے شاہین شاہ آفریدی کی گیند پر عمران بٹ کے ہاتھوںکیچ ہو گئے۔جس کے بعد ربادا بیٹنگ کیلئے آئے۔268رنز ہی کے سکور پر جنوبی افریقہ کی نویں وکٹ گر گئی جب ربادا بغیر کوئی رنز بنائے شاہین شاہ آفریدی کی گیند پر بولڈ ہو گئے۔اس موقع پر آخری بیٹسمین نوکیا بیٹنگ کیلئے آئے۔274رنز کے مجموعی سکور پر جنوبی افریقہ کی آخری وکٹ بھی گر گئی جب ملڈر20رنز بنا کر یاسر شاہ کی گیند پر بولڈ ہو گئے،نوکیا دو رنر بنا کر ناٹ آوٹ رہے۔پاکستان کی جانب سے حسن علی نے 16اوورزمیں60رنز کے عوض 5وکٹ،شاہین شاہ آفریدی نے 21اوورز میں 51رنز کے عوض4وکٹ اور یاسر شاہ نے 23.4اوورز میں 56رنز کے عوض ایک وکٹ حاصل کی جبکہ فہیم اشرف10اوورز میں 37رنز،نعمان علی 20اوورزمیں 63رنز اور فواد عالم ایک اوور میں 05رنز کے عوض کوئی وکٹ حاصل نہ کر سکے۔مین آف دی میچ کا ایوارڈ حسن علی جبکہ مین آف دی سیریز کا ایوارڈ محمد رضوان کو دیا گیا۔پاکستان کی کامیابی پر پریس باکس میں مٹھائی بھی تقسیم کی گئی۔

موضوعات:

زندگی کا ذائقہ

مولانا روم کونیا میں ہر جمعہ کو خطاب کرتے تھے‘ لوگ سیکڑوں میل سفر کر کے خطاب سننے آتے تھے‘ زائرین کاشغر سے زیارت‘ غورستان سے اصفہان اور بلخ سے لے کر مشہد تک سے کونیا آتے تھے اور کاروان سرائے میں بیٹھ کر جمعہ کا انتظار کرتے تھے‘ جمعہ کی نماز سے پہلے درگاہ کے دروازے کھول ….مزید پڑھئے‎

مولانا روم کونیا میں ہر جمعہ کو خطاب کرتے تھے‘ لوگ سیکڑوں میل سفر کر کے خطاب سننے آتے تھے‘ زائرین کاشغر سے زیارت‘ غورستان سے اصفہان اور بلخ سے لے کر مشہد تک سے کونیا آتے تھے اور کاروان سرائے میں بیٹھ کر جمعہ کا انتظار کرتے تھے‘ جمعہ کی نماز سے پہلے درگاہ کے دروازے کھول ….مزید پڑھئے‎



اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں