43

بھاری قرضے ملکی معیشت پر بوجھ ، 15ماہ کے دوران ملک مزید2660 ارب کا مقروض

لاہور(این این آئی )چیئرمین لاہور ٹائون شپ انڈسٹریز ایسوسی ایشن محمد وسیم چاولہ نے کہا ہے کہ بھاری قرضے ملکی معیت پر بوجھ ہیں جن کی ادائیگی کیلئے عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھ رہا ہے ، حکومت مزید قرضوں کی بجائے ٹھوس اقتصادی ماسٹر پلان اور واضح روڈ میپ کے ذریعے معاشی بحران پر قابو پائے اورصنعتی شعبہسمیت عوام کو ریلیف دینے کیلئے اقدامات عمل میں لائے جائیں،جون2019سے ستمبر2020تک بیرونی قرض 6ارب ڈالر بڑھ کر 79ارب90کروڑ ڈالر تک جاپہنچا ہے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 15ماہ کے دوران اندرونی و بیرونی قرضوں کے باعث

ملک مزید2660ارب کا مقروض ہوگیا۔ان خیالات کا اظہار انہوںنے سینئر وائس چیئرمین مسعود نظامی، وائس چیئرمین محمد عدیل بھٹہ کے ساتھ ٹائون شپ انڈسٹریز کے صنعتکاروں کے مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔محمد وسیم چاولہ نے کہا کہ قرضوں کے بوجھ میں مزید اضافہ کی صورت میں معاشی بہتری کے آثار معدوم ہوتے جارہے ہیں آئی ایم ایف پروگرام کے تحت مزید قرض سے ملک میں مہنگائی میں ہوشربا اضافہ ہوگااور آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت ٹیکسوں میں مزید اضافے اور ترقیاتی منصوبوں کے فنڈز میں کٹوتی ہوگی جس سے ایک جانب مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگا دوسری جانب معاشی ترقی کی رفتار مزید سست ہوجائے گی ۔اس لیے حکومت قرضوں کی بجائے معاشی خودمختاری کیلئے اقدامات کرے اورملکی برآمدات میں اضافہ کیلئے صنعتی شعبہ کو ریلیف دے تاکہ ملکی برآمدات اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ سے حکومت کو قرضوں سے نجات مل سکے۔



اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں