41

بلاول بھٹو زرداری نے حکومت پر سینیٹ کے انتخابات متنازع بنانے کا الزام عائد کردیا

کراچی (این این آئی) پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حکومت پر سینیٹ کے انتخابات متنازع بنانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس طرح عام انتخابات کو متنازع بنایا گیا، سینیٹ انتخاب کو بھی متنازع بنایاجارہا ہے،صدارتی آرڈیننس سے سپریم کورٹ بھی متنازع ہوسکتا ہے،سیلیکٹڈ حکومت میچ فکس کرنےکی کوشش کررہی ہے،امید ہے کہ ہم 2018 کے الیکشن سے بہت کچھ سیکھ چکے ہوں گے،ہم چاہتے ہیں کہ آبپارہ والوں کا سیاست میں کردار نہ ہو،اگر ان کا کوئی سیاسی ونگ ہے تو اسے بند کرنا چاہیے اگرسینیٹ انتخابات متنازع بنانے کی سازش کامیاب ہوئی

تو جمہوریت پر بڑا حملہ ہوگا،انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر خدانخواستہ الیکشن متنازع ہوئے تو اس کا شدید ردعمل ہو گا۔ ان خیالات کا اظہارانہوں نے بلاول ہاس کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پرمرکزی سیکریٹری اطلاعات شازیہ مری دیگربھی موجود تھے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کٹھ پتلی حکومت کی جانب سے سینیٹ انتخابات کے دوران میچ فکس اور دھاندلی کرنے کے خلاف اپوزیشن جماعتیں متحد ہیں تاکہ حکومت کوئی ایسی کوششیں نہ کرسکے کہ سینیٹ انتخابات بھی ایسے ہی متنازع ہوں جیسے قومی اسمبلی کے انتخابات متنازع ہوئے تھے،عام انتخابات میں ایک پارٹی کے لیے ایک ہی سلیکٹڈ امیدوار کے لیے دھاندلی کروائی گئی اور اب سینیٹ انتخابات میں ریفرنس اور آرڈیننس کے ذریعے کوشش ہورہی ہے پہلے ترمیمی بل پیش کیا گیاتھا،صدارتی آرڈیننس سے نہ صرف ہمارا پارلیمان متازع ہو رہا ہے بلکہ سپریم کورٹ بھی متنازع ہوسکتا ہے اور سینیٹ کا پورا الیکشن متنازع ہوگا۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ حکومت نے غلط قدم اٹھایا، امید ہے کہحکومتی سہولت کار بھی اسے سمجھیں گے، یہ ایک غلط روایت رکھی جا رہی ہے جس سے مستقبل میں ملک کو نقصان ہوگا، امید ہے آئین اور قانون کے مطا بق فیصلے کیے جائیں گے ان کا کہنا تھا ارکان پارلیمنٹ کے خفیہ بیلٹ کے حق پر حملہ کیا جا رہا ہے، ہم الیکٹورل ریفارمز کے حامی ہیں لیکن موجودہ حکومت اس پر یقین نہیں رکھتی،حکومت شفاف الیکشن نہیں چاہتی اس لیے آرڈیننس لائی، ریفارمز کے لیے موجودہ حکومت کے پاس ڈھائی سال کا وقت تھا، لیکن حکومت کی نیت ہی خراب تھی اس لیے آرڈیننس لے کر آئی۔حکومت پہلے سمجھ رہی تھی کہ انھیں سینیٹ میں فری ہینڈ ملے گا لیکن جب اپوزیشن نے سینیٹ انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا تو حکومت پریشانہوگئی، حکومت کو اپنے ارکان پارلیمنٹ پر اعتماد ہی نہیں اس لیے اسمبلی میں بل لے آئی، حکومت کو اوپن بیلٹ کے لیے آئین میں ترمیم کرنی ہوگی۔انھوں نے کہا کہ اپوزیشن کے ساتھ ساتھ نیب حکومتی اتحادیوں کے خلاف بھی بلیک میلنگ کے لیے استعمال ہوتا ہے لیکن حکومت کو بتانا چاہتا ہوں آپ کے ممبران آپ کے خلاف اوپن ووٹدینے کو تیار ہیں، اوپن بیلٹ میں ہم خفیہ بیلٹ سے بھی زیادہ ووٹ حاصل کریں گے، کیوں کہ حکومتی ایم پی ایز اور ایم این ایز ناراض ہیں، ہمیں نہیں اس سے حکومت کو نقصان ہوگا انہوں نے کہا کہ ہر پاکستانی کے لیے اور ہر جمہوری ملک میں ہر شہری کو ووٹ کا حق ہے اور اس کے ساتھ ساتھ خفیہ ووٹ کا حق ہے تاکہ وہ مکملپرائیویسی کے تحت ووٹ ڈال سکے تاکہ کوئی انہیں دبا میں نہ لا سکے اور ان کے ووٹ کی وجہ سے کوئی ان سے بدلہ نہ لے سکے اور یہ بنیادی حق ہر الیکشن چاہے بلدیاتی یا عام انتخابات ہوں یا پھر سینیٹ کے انتخابات میں ہے لیکن اس پر اور صوبائی اراکین کے خفیہ ووٹ کے حق پر حملہ کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تمامسیاسی جماعتیں پاکستان مسلم لیگ (ن)اور پاکستان پیپلزپارٹی سمیت دیگر جماعتیں سینیٹ انتخابات میں مکمل انتخابی اصلاحات کے حامی ہیں لیکن یہ حکومت اس میں کوئی دلچپسی نہیں رکھتی، وہ شفاف اور غیر متنازع انتخابات نہیں چاہتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر وہ واقعی شفاف انتخابات چاہتی تھی تو بہت وقت تھا کیونکہ وہ تین سالسے حکومت میں ہیں، انتخابی اصلاحات اور ضروری قانون سازی اور آئین میں ترمیم پر کام کر سکتے تھے لیکن ان کی نیت خراب تھی۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو پہلے امید تھی کہ انہیں سینیٹ میں فری ہینڈ دیا جائے اور ان کا مقابلہ نہیں ہوگا لیکن جب پتہ چلا کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ سینیٹ انتخابات میں ان کا مقابلہ کر رہی ہے اوران کے اراکین اسمبلی ناراض ہیں تو اپنے اراکین پر عدم اعتماد کرتے ہوئے پہلے پہلے عدالتی ریفرنس دائر کیا پھر ایک آئینی ترمیم کا بل کمیٹی کے ذریعے بغیر کسی بات چیت اور اپوزیشن کے نکتہ نظر کے بغیر مسلط کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ آپ آئینی ترمیمی بل پیش کر رہے ہیں اور اگر آپ کا وزیر قومی اسمبلی کے فلور پر کہہ رہے ہیںہمیں اس آئینی ترمیم کی ضرورت ہے تو آپ مان چکے ہیں کہ یہ ایک آئینی ضرورت ہے لیکن پھر ایک آرڈیننس جاری کرتے ہو لیکن آپ آرڈیننس کے ذریعے آئینی ترمیم نہیں کر سکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پھر کہتے ہیں کہ قانونی تبدیلی کی ضرورت ہے تو یہ کھلم کھلا تضاد اور ان کے مقف میں کنفیوژن ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہعدالت اس کی اجازت نہیں دے گی جہاں الیکشن کمیشن نے بھی صاف کہا ہے کہ یہ آئینی انتخابات ہیں، جہاں تاریخ اور عدالت کی مثالیں موجودہیں۔بلاول بھٹو نے کہا کہ صدارتی ریفرنس پہلے ہی عدالت میں موجود ہے اور ہم اس آرڈیننس کو بھی عدالت میں چیلنج کریں گے اور آئین اور قانون کے تحت انتخابات ہوں گے،اگر خدانخواستہ یہسازش کامیاب ہوئی تو پاکستان کی جمہوریت، پارلیمان اور پاکستان کے انتخابات پر بہت بڑا حملہ ہوگا، اگر یہ سازش کامیاب ہوتی ہے تو آپ صوبائی اور قومی اسمبلی کو بند کر سکتے ہیں، ان کا ووٹ ڈالنے کا فائدہ کیا ہے،ان کا کہنا تھاکہ اراکین اسمبلی کی رائے کا حق ہونا چاہیے کہ وہ اپنی مرضی سے کام کریں چاہے وہ قانون سازی ہو،آئین میں ترمیم یا پھر ووٹ ہو، یہ ان کا حق ہے اور وہ اپنے فورم کے ذریعے کام کرے،اگر صدر کے دفتر سے یا عدالت کے ذریعے قانون سازی ہونی ہے تو پھر قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کو بند کر دیں کیونکہ جمہوریت اور اس ریاست کو چلانے میں ان کا کوئی کردار نہیں رہا، اگر یہ مثال قائم ہو جاتی ہے تو ہر انتخابات سے پہلےقومی اسمبلی معطل ہوتی ہے تو پھر صدر آرڈیننس نکالے گا۔انہوں نے کہا کہ صدر آرڈیننس نکالے گا کہ یہ انتخابات اوپن اور جنرل انتخابات کی ووٹنگ ہوگی اور فیس بک پولنگ کے مطابق اپنے فیس بک پیج پر جا کر ووٹ ڈالیں گے اورہم بے بس دیکھیں گے کہ ہم نے اسمبلی میں کوئی قانون نہیں بنایا۔ان کا کہنا تھا کہ یہ بہت ہی خطرناک مثالہے اورمیں سمجھتا ہوں کہ حکومت کا یہ اقدام غیر ذمہ دارانہ ہے اور امید رکھتا ہوں کہ حکومت کے سہولت کاروں کو بھی سمجھ آنا چاہیے کہ اس قسم کی مثال قائم کرکے ہم خطرناک راہ پر چل رہے ہیں اور اس سے غلط پیغام ملک کے اندر اور باہر جائے گا۔سینیٹ انتخابات سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہماری امیدیں سپریم کورٹ سے وابستہ ہیں کہ غیرجانب دارانہ، غیر سیاسی، آئین اور قانون کے مطابق فیصلے دیے جائیں گے اور پھر کوئی امکان نہیں ہے کہ یہ آرڈیننس انتخابات تک چلے گا۔

موضوعات:

زندگی کا ذائقہ

مولانا روم کونیا میں ہر جمعہ کو خطاب کرتے تھے‘ لوگ سیکڑوں میل سفر کر کے خطاب سننے آتے تھے‘ زائرین کاشغر سے زیارت‘ غورستان سے اصفہان اور بلخ سے لے کر مشہد تک سے کونیا آتے تھے اور کاروان سرائے میں بیٹھ کر جمعہ کا انتظار کرتے تھے‘ جمعہ کی نماز سے پہلے درگاہ کے دروازے کھول ….مزید پڑھئے‎

مولانا روم کونیا میں ہر جمعہ کو خطاب کرتے تھے‘ لوگ سیکڑوں میل سفر کر کے خطاب سننے آتے تھے‘ زائرین کاشغر سے زیارت‘ غورستان سے اصفہان اور بلخ سے لے کر مشہد تک سے کونیا آتے تھے اور کاروان سرائے میں بیٹھ کر جمعہ کا انتظار کرتے تھے‘ جمعہ کی نماز سے پہلے درگاہ کے دروازے کھول ….مزید پڑھئے‎



اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں